جموں کشمیر میں اب دھرم کے نام پر سیاست کیوں ہو رہی ے

۱۹۳۲ میں شیخ محمد عبداللہ نے چوہدری غلام عباس کے ساتھ جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی اور محض ساتھ سال کے بعد علیحدہ ہوکر جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کو قائم کیا۔

شیخ محمد عبداللہ جو اس وقت کے سب سے بڑے قداور لیڈر مانے جاتے تھے نے اس لے مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرلی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ مسلم کانفرنس کا نام رکھ کر اس سیاسی جماعت میں باقی مذاہب سے جڑے لوگوں کے لے راستے بند ہوسکتے تھے۔ اور ان کی سیاست کسی مخصوص فرقے کے لوگوں کے لے نہیں ے بلکہ ہر اس شخص کے لے جو جموں کشمیر کا باشندہ ہوں بلے ہی وہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہوں۔

اس کے بعد تاریخ دان ان کے اس فیصلے پر مختلف قسم کی رائے رکھتے ے۔ تاہم شیخ محمد عبداللہ پورے جموں کشمیر میں مقبول ہوگے اور آج تک جموں کشمیر نیشنل کانفرنس مسلم اکثریتی والے کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی خاصا مقبول رہی۔

لیکن اب حالات بدل گے ہواے بدل گی۔ اور اب جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کی راجنیتی کے طریقے بھی۔

بھاجپا کا جموں میں داخل ہونے کے ساتھ ہی وہاں کا سیاسی رنگ اب بھگوا ہونے لگا۔ بھاجپا کی سیاست کا ویسے بھی ٹریڈ مارک بھگوا ہی ے اور دھرم کے نام پر ان سے کوئی راجنیتی کرنا سیکھے۔

اس بھگوا رنگ کے نیچے نیشنل کانفرنس کا سیکولر ایجنڈا اب دھیرے دھیرے دبنے لگا اور نیشنل کانفرنس کے سامنے پریشانیاں کھڈا کرتا گیا۔

اب نیشنل کانفرنس سیکولر نعرے سے لے کر کہا پہنچی آپ اس ویڈیو میں دھیکے۔

اس طرح کے نعرے نیشنل کانفرنس کے جلسے میں پہلے بہت کم دھیکنے کو مل رہا تھا اگر چہ پی ڈی پی جیسی سیاسی جماعت کے لے یہ کوئی نئی بات نہیں ے۔

نیشنل کانفرنس مزیب کے نام پر سیاست کرنے کے لے کیا بی جے پی نے مجبور کرلی یا پھر اس اسٹریٹجی میں اسے کوئی امید کی کرن نظر آرہی ے۔ آپ ہمیں نیچے کیمنٹ بکس میں ضرور بتائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں