سرینگر میں مسافر گاڑیوں کی رفتار دھیمی۔ مسافروں کو سخت ذہنی کوفت

کوئی بھی ڈرائیور تب تک اپنی گاڑی نہیں چلاتا جب تک نہ اس میں سواریاں کھچا کھچ بھر نہ جائیں

سر ینگر: شہر سرینگر میں چلنے والی مسافر گاڑیاں دھیمی رفتار سے چلتی ہیں جس سے مسافروں کو سخت ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ڈرائیوروں کی زیادہ پیسے بٹورنے کی لالچ سے منٹوں کاسفر گھنٹوں میں طے ہوتاہے اور کوئی بھی ڈرائیور تب تک اپنی گاڑی نہیں چلاتا جب تک نہ اس میں سواریاں کھچا کھچ بھر نہ جائیں۔

پھر راستے میں جگہ جگہ گاڑی روک کر مسافروں کوپریشان کیاجاتاہے۔ پارم پورہ نیو بس اڈے سے لالچوک آ نے والے مسافروں نے بتایاکہ گاڑی کو تیز چلانے پر کئی مرتبہ مسافروں کو ڈرئیور اور کنڈیکٹر کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی شہر میں چلنے والی گاڑیوں کے ڈرائیور ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

مسافروں نے کہاکہ گاڑیوں میں اوور لوڈنگ بھی اس قدر ہوتی ہے کہ تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی اور اس صورتحال پر محکمہ ٹریفک خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ نیو بس اڈہ پارم پورہ سے لاچوک،جہانگیر چوک سے بمنہ، ایچ ایم ٹی، قمرواری، برزلہ،باغات، راولپورہ، حیدرپورہ، وانہ بل راولپورہ، باغ مہتاب، چھانہ پورہ، نٹی پورہ، نوگام، درگاہ برین،نشاط، شالیمار، ہارون، لال بازار، عناواری، صورہ،بڑھ پورہ کے علاوہ دیگر کئی روٹوں پر چلنے والی گاڑیاں مسافروں کیلئے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ وہ اگر کبھی لالچوک آتے ہیں توراستے میں ذہنی کوفت کاسامناکرناپڑتاہے کیونکہ گاڑی میں ایک تو اوورلوڈنگ ہوتی ہے اور دوسرا اسے جگہ جگہ رکوایاجاتاہے جس سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں بھی طے نہیں ہوتا۔ ایچ ایم ٹی کے ایک شہری نے بتایا کہ جب بھی وہ لالچوک آتا ہے توگھر واپس جاناوقت پر پہنچنا مشکل ہوجاتاہے کیوں کہ گاڑی میں ایک تو اوور لوڈنگ ہوتی ہے دوسرا جگہ جگہ اسے کھڑا کردیاجاتاہے۔

برزلہ کے ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ہر روز اسے مسافر بس میں ہی سفر کرناپڑتاہے۔ اظہر کا کہنا ہے کہ گاڑی میں اگر چہ لالچوک سے یونیورسٹی تک آدھا گھنٹہ لگتا ہے لیکن وہ ہر روز ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں یونیورسٹی پہنچتے ہیں اور کئی بار دیر سے پہنچنے کی وجہ سے تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ایک اور طالب علم وقار احمد کا کہنا ہے کہ وہ اب ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہی گاڑی میں داخل ہوتا ہے تاکہ وقت پر یونیورسٹی پہنچ سکوں۔مسافروں اور طلاب نے ٹریفک حکام سے اپیل کی ہے کہ اس نظام میں سدھار لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور ڈرائیوروں کو اس قدر کھلی چھوٹ نہ دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں