روزگار کے وسائل نہ ہونے سے نوجوان طبقہ ذہنی تناؤ کا شکار

بے روزگاری نوجوانوں کو نشہ خوری اور جرائم کی جانب دھکیل رہی ہے

سر ینگر:کورونا وائرس جس تناسب سے پھیل رہا ہے اس سے زیادہ بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ نوجوان طبقہ جو کسی بھی قوم کی ترقی و خوش حالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے وہ بیروزگاری کے مسئلہ سے دوچار ہے۔ اس مسئلہ سے نوجوان طبقہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہا اور یہ چیزانہیں نشہ خوری اور جرائم کی جانب دھکیل رہا ہے، جس سے اخلاقی و سماجی برائیاں جنم لے ہی ہیں۔

اگر نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ روزگار بھی فراہم کیا جائے تو جرائم کی شرح میں کمی آ سکتی ہے۔ نوجوان طبقے کو جب اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں روزگار نہ ملے تو وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے اور پھر جرائم کے پیشہ سے منسلک ہو جاتے اور کچھ خودکشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ کئی تعلیم یافتہ دوشیزائیں بیکاری کے باعث نفسیاتی بیماریوں کی لپیٹ میں آ گئی ہیں۔

سرکاری کی جانب سے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے کے بارے میں صرف دعوئے ہی کئے جاتے ہیں جبکہ عملی اقدامات اٹھانے کے سلسلے میں حکومت کی غیر سنجیدگی نے نوجوان طبقے کو نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ روزگار کے وسائل دستیاب نہ ہونے کے باعث جہاں ایک طرف کشمیر وادی میں جرائم کی تعداد حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں آئے دن نقب زنی کے واقعات،قمار بازی،لٹیرگی نے کشمیر وادی کے لوگوں کو پریشانیوں میں مبتلا کر دیا ہے وہیں تعلیم یافتہ بے روزگار سرکاری اداروں کے ارد گرد چکر کاٹتے اور فارم داخل کرتے تھک کر چکنا چور ہوئے ہیں اور تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ایک بڑی تعدا د یا تو زندگیوں کا خاتمہ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا پھر ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہو کر شراب نوشی اور منشیات کا استعمال کرنے لگے ہیں۔

اگر چہ منشیات اور نشیلی دوائیاں استعمال کرنا تعلیم یافتہ بے روزگاروں کا پرانا شغل بن گیا ہے تاہم اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھروں کی چار دیواریوں کے اندر رہنے والی دوشیزاؤں کی ایک بڑی تعداد نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو گئی۔بے روزگاری حد سے زیادہ بڑھ جانے کے باعث جہاں ایک طرف جرائم میں اضافہ ہوا ہے وہی نفسیاتی بیماری نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل دن بدن مخدوش بنتا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں