سرینگر میں رواں موسم کی اب تک سرد ترین رات درج

جمعہ کی صبح دھند پڑنے سے شاہراہوں اور سڑکوں پرگاڑیوں کو ہیڈ لائٹس کا استعمال کرناپڑا

سر ینگر: وادی کشمیر میں سردی کی شدت میں تیزی کے بیچ سرینگر میں رواں موسم کی اب تک کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی۔جمعہ کی صبح بیشتر میدانی علاقوں میں شدید دھند پڑنے سے اہم شاہراہوں اور سڑکوں پرگاڑیوں کو ہیڈ لائٹس کا استعمال کرناپڑا۔ ادھر محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ وادی میں 19 نومبر تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی توقع ہے۔

سی این ایس کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے جبکہ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی زد میں آ گیا ہے۔

جموں صوبے میں بھی ٹھنڈ کی لہر جاری ہے جہاں جموں میں چار ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت 0.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے کافی کم تھا۔

سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرات منفی 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی0.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔ پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی2.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔

سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی0.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی0.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔ لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

سردی کی شدید لہر کے بعد اونی لباس اور گرم ملبوسات کی طلب بڑھ گئی ہے۔ شدید ترین سردی کی وجہ سے مارکیٹوں اور بازاروں میں شہری آگ جلا کر سردی کے اثرات کو کم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

سردی بڑھتے ہی گیس اور لکڑی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہیجمعہ کی صبح شدید دھند پڑنے سے حد نگاہ کم ہو کر رہ گئی ہے۔ دھند کے باعث حدنگاہ صفر رہ گئی جس کے بعد گاڑیوں کو ہیڈ لائٹس چا لو رکھنے پڑ ی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں