حیدر پورہ سرینگر میں شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال سے وادی میں معمولاتی زندگی کا نظام مفلوج

پائین شہر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات،معمول کی سرگرمیاں ٹھپ،تمام بازار بند اور سڑکیں سنسان و ویران

سرینگر:حید ر پورہ سرینگر جھڑپ میں دو شہریو ں کی ہلاکت کے خلاف مزاحمتی خیمے کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال پر پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں سخت ترین سیکورٹی انتظامات کے بیچ پوری وادی میں مکمل ہڑتال رہی،جسکے نتیجے میں معمول کی سرگرمیاں ٹھپ رہنے کے ساتھ ساتھ تمام بازار بند اور سڑکوں سے مسافر ٹرانسپورٹ غائب رہا۔

سی این آئی کے مطابق حیدر پورہ سرینگر جھڑپ میں دو شہریوں الطاف احمد ڈار اور ڈاکٹر مدثر گل کی ہلاکت کے خلاف حریت کانفرنس نے جمعہ کو ہڑتال کی کال دی تھی جس کے نتیجے میں وادی کشمیر کے تمام علاقوں میں مکمل بند اور لاک ڈاؤن رہا۔ جمعہ کو پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں سخت ترین سیکورٹی انتظامات کے بیچ وادی میں مکمل اور ہمیہ گیر ہڑتال رہی۔

شہر کے حساس علاقوں میں سیکورٹی سخت کر دی گئی تھی۔حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں،چوراہوں اور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا۔مائسمہ، گاؤکدل، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ،بڈشاہ چوک اور ملحقہ سڑکوں پر بھی پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی تاہم شہر کے سول لائنز ائریا میں اگر چہ اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی مگر لوگوں کی نقل و حمل پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔

شہر کے کم وبیش تمام علاقوں میں غیر مہلک اسلحہ اور آلات سے لیس سیکورٹی فورسز اور پولیس کو امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں دیکھاگیا۔مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں سڑکیں سنسان اور بازار ویران رہے۔ ادھر وادی کے دیگر اضلاع میں بھی جن میں بارہمولہ، کپوارہ، سوپور، بانڈی پورہ، بڈگام، پلوامہ، شوپیان، گاندربل او ر دیگر علاقے بھی شامل ہیں میں مکمل ہڑتال رہی جسکی وجہ سے زندگی کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔ ہڑتال کی وجہ سے دکانیں اور کاروباری مرکز بند رہے۔

اس دوران سڑکوں پر جگہ جگہ بکتربند گاڑیاں تیاری کی حالت میں رکھی گئیں تھیں۔جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام، اسلام آباد، شوپیان، پلوامہ میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال کی وجہ سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ اس دوران سڑکوں پر سیکورٹی اہلکاروں کے علاوہ اور کوئی بھی شخص نظر نہیں آیا جبکہ انتہائی حساس والے علاقوں اور اہم تنصیبات پر فورسز کا کڑا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔ تاہم کسی بھی جگہ سے آخری اطلاع ملنے تک کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

وسطی کشمیر کے اضلاع بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں جس دوران لوگوں نے گھروں میں بیٹھنے کو ہی ترجیح دی جبکہ تناؤ اور کشیدگی کا عالم صاف نظر آرہا تھا۔ مجموعی طور پر شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل بند سے معمول کی زندگی متاثر رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں