وادی میں غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا

سرینگر:شہر سرینگر سمیت وادی میں بجلی بریک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہیجبکہ شام ہوتے ہیں ہر سو اندھیرا چھاجاتا ہے اور سڑکوں پر جیسے اُلو بولتے ہیں۔ اس صورتحال پر لوگوں نے محکمہ پی ڈی ڈی کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ 30برس پہلے بھی بجلی کا یہی حال تھا اور آج بھی اسی نہج پر محکمہ کام کررہا ہیں۔

کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں موسم سرماء شروع ہونے سے قبل ہی بجلی بریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے اور شہر سرینگر سمیت دیگر قصبہ جات میں برقی رو نایا ب بنائی گئی ہے۔ ایک گھنٹہ بجلی چالو رہنے کے بعد اگلے تین چار گھنٹوں تک بجلی بند رکھی جاتی ہے اور جس گھنٹے بجلی فراہم کی جاتے ہیں اس کی وولٹیج اس قدر قلیل ہوتی ہے کہ اس کی روشنی میں انسان پہنچاننا بھی دشوار بن جاتا ہے۔

شہر سرینگر کے مختلف علاقوں جن میں رام باغ، کرسو راجباغ، ٹنکی پورہ، گاؤ کدل اور دیگر علاقوں میں صبح و شام تین تین گھنٹوں بجلی بند رکھی جارہی ہے جبکہ دن میں بھی کئی گھنٹوں سپلائی کو منقطع رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہر خاص کے رعناواری، خانیار، نوہٹہ، گوجوارہ اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے بھی شکایت کی ہے کہ محکمہ بجلی نے بغیر اعلان کئے ہی کٹوتی شیڈول پر عمل کرنا شروع کیا ہے۔ اس دوران پائین شہر جس میں صورہ، بژرہ پورہ، احمد نگر، گلا ب باغ، حضرتبل، تیل بل، نشاط، برین،وغیرہ علاقہ جات شامل ہیں بجلی کی نایابی سے لوگ پریشان ہیں۔

سی این آئی کے نمائندوں نے دیگر قصبہ جات سے بھی اطلاع دی ہے کہ مختلف جگہوں پر بجلی بریک ڈاون سے لوگ پریشان ہوگئے ہیں۔ سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہگام، کرالپورہ، ہائین، زچلڈارہ، لولاب، دیور، اور دیگر علاقوں میں بجلی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جبکہ ضلع بارہمولہ کے رفیع آباد، کاچہامہ،ڈھنگی وچھہ، ڈانگر پورہ، اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے بھی اسی طرح کی شکایات کی ہیں۔ جبکہ سوپور کے تارزو، زینہ گیر، اور دیگر علاقوں میں بھی بجلی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس دوران ضلع بڈگام میں بھی برقی رو کی عدم دستیابی کے خلاف لوگوں میں غم وغصہ پایا جارہا ہے۔

جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ، ضلع شوپیاں اور کوگام کے ساتھ ساتھ ضلع اننت ناگ میں بھی برقی رو کی کٹوتی شروع کی گئی ہے۔ وادی میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑہا ہے۔ لوگوں نے محکمہ بجلی کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کہاں سے کہا ں پہنچ گئی ہے تاہم وادی کشمیر کا بجلی محکمہ ابھی بھی 30برس پہلے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیس برس پہلے بجلی کا جو حال تھا آج بھی اسی نہج پر ہے اور محکمہ نے آج تک اس میں کوئی ترقی نہیں کی جس کا خمیازہ لوگوں کو اُٹھانا پڑرہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں