کووڈ 19کی ایک اور قسم نمودار ہونے کے بعد جموں کشمیر میں ایل جی انتظامیہ متحرک

سرینگر:کووڈ 19کی ایک اور ویرینٹ سامنے آنے کے بعد یوٹی انتظامیہ کی جانب سے پیشگی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں ایک میٹنگ بھی منعقد ہوئی ہے جس میں اس نئی ویرینٹ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا اور اس سے بچنے کیلئے احتیاطی تبدابیر اپنانے پر زور دیا گیا۔ اس میٹنگ کا انعقاد یونین ہیلتھ منسٹری کی جانب سے نئے ویرینٹ B.1.1529سے متعلق انکشاف کرنے کے منعقد کی گئی۔

کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عالمی وبائی بیماری کووڈ 19کی ایک اور نئی قسم ’میکرون‘نمودار ہونے کے ساتھ ہی جہاں عالمی سطح پر اس سے نمٹنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں وہیں جموں کشمیر میں بھی اس سے منٹنے کیلئے تیاریاں شروع کی گئیں ہیں اس سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر منو ج سنہا کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی گئی ہے جس میں تمام اضلاع کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ پیشگی اقدامات اُٹھائیں۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جموں کشمیر میں کووڈ کے معاملات میں اضافہ کے ساتھ ہی جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے محکمہ صحت اور تمام اضلاع کے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ جموں کشمیر میں کوودڈ 19جانچ عمل میں تیزی لائیں اور ٹسٹنگ عمل میں 30فیصدی آر ٹی پی سی آر کو اپنائیں۔ موصوف نے یہ ہدایت جموں کشمیر میں کووڈ کی صورتحال کی ایک جائزہ میٹنگ کے دوران دیں۔کووڈ 19کی جائزہ میٹنگ میں تمام ضلع کمشنروں، ایس پیز، محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔

اس موقعے پر انہوں نے ضلع کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ یوٹی میں کوراناوائرس کے مثبت معاملات کو پھیلنے سے روکنے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ریپڈ ٹیکہ کاری، کووڈ مناسب طرز عمل، کمونٹی جانکاری اور مائکرو کنٹونمنٹ زونوں میں تیزی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وباء کو پھیلنے سے تبھی روک سکتے ہیں جب ہم کووڈ کی گائیڈ لائنوں پر من و عن عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نشاندہی، علاج اور احتیاط کامیاب تدابیر ہیں۔ انہوں نے ضلع کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ ٹی بی اور منشیات کی بدعت کے خاتمہ کیلئے عوامی جانکاری پروگراموں کا انعقاد کریں۔

لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ جموں کشمیر میں سینکڑوں کنبے ہیں جنہیں منشیات سے نقصان پہنچا ہے اور جو اس سے کافی خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ اس بدعت کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات اُٹھائیں۔ یاد رہے کہ اس میٹنگ کا انعقاد یونین ہیلتھ منسٹری کی جانب سے نئے ویرینٹ B.1.1529سے متعلق انکشاف کرنے کے بعد منعقد کی گئی۔ یہ کووڈ ویرینٹ ساوتھ افریقہ میں کچھ دن پہلے ہی پایا گیا ہے۔

مرکزی صحت کے سکریٹری راجیش بھوشن نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو لکھے ایک خط میں لکھا ہے، “اس قسم میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی اطلاع ہے، اور اس طرح، حال ہی میں نرمی کی گئی ویزا پابندیوں کے پیش نظر، ملک کے لیے صحت عامہ کے سنگین اثرات ہیں۔راجیش بھوشن نے تمام ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ایڈیشنل چیف سکریٹریوں، پرنسپل سکریٹریوں اور ہیلتھ سکریٹریوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نئے ورڑن کے لیے مثبت آنے والے مسافروں کے نمونے نامزد کردہ INSACOG جینوم سیکوینسنگ لیبز میں بھیجے جائیں۔

یاد رہے کہ کووڈ کی نئی قسم میکرون نمودار ہوئی ہے جو کافی تیزی کیساتھ پھیل رہی ہے۔ یہ ویرینٹ افریقہ، اسرائیل، بلجیم اور دیگر ممالک میں پائی گئی ہے جس نے وہاں تباہی مچانی شروع کردی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عالمی صحت تنظیم نے بھی اس نئی قسم کے وائرس کو کافی خطرناک قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ نہ اس پر دوائی کا اثر ہوتا ہے اور ناہی ویکسین اس کو روک سکتی ہے۔ تاہم امریکہ ماہرین طب نے کہا ہے کہ اس نئی ویرنٹ کیلئے وہ دس دنوں کے اندر اندر ویکسین تیار کریں گے۔ اس دوران ماہرین نے اس سے بچنے کیلئے فی الحال احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی صلاح دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں