جسمانی طور ناخیز افراد کا اپنے مطالبات کو لے کر سیول سیکریٹریٹ سری نگر کے باہر احتجاج

سری نگر، (یو این آئی) : جسمانی طور ناخیز افراد نے جمعرات کو یہاں سیول سیکریٹریٹ کے باہر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج درج کیا۔احتجاج کرنے والوں نے بتایا کہ اْن کے جائز مسائل کو حل کرنے کی اور کوئی توجہ مبذول نہیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنوری 2020 میں ہی نارمل اْمیدواروں کا شارٹ لسٹ جاری کیا گیا تھا اور ان کا سال گذشتہ سلیکشن لسٹ بھی جاری کیاگیا لیکن جسمانی طور معذور اْمید واروں کا شارٹ لسٹ جاری کرنے میں بھی تاخیر کی گئی اور اب سلیکشن لسٹ بھی جاری نہیں کی جارہی ہے۔احتجاجی جموں وکشمیر ہینڈی کیپڈ ایسو سی ایشن کے بینر تلے احتجاج کر رہے تھے اور ایس ایس آر بی اور سوشل ویلفیئر کے خلاف جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔

اس موقع پر ایسو سی ایشن کے ذعماوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم سمجھتے تھے کہ ایل جی انتظامیہ میں ہمیں انصاف ملے گا لیکن آج بھی ہمیں انصاف نہیں مل رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کہ ہمارے حالات پہلے سے بھی بدتر ہیں۔اْنہوں نے بتایا کہ ہمیں ویل چیئر یا ٹرائی سائیکلوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں روزگار چاہئے تاکہ ہم دوسروں کی بھی مدد کر سکیں۔

بلال احمد نامی ایک احتجاجی نے بتایا کہ ہمارا سلیکشن لسٹ جلد سے جلد نکلنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ہم مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کے ازالے کا واحد حل روزگار ہے۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ ہمارے ساتھ یہاں ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی سلیکشن لسٹ کو جلد از جلد منظر عام پر لایا جائے۔اْن کا مزید کہنا تھا کہ ہماری زندگی اجیرن بن گئی ہے اور ہمیں سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔

اور ایک احتجاجی نے بتایا کہ سروسز سلیکشن بورڈ کی جانب سے درجہ چہارم کی سلیکشن کی خاطر جسمانی طور ناخیز افراد کا چار فیصد کوٹا بنتا تھا جو تقریباً دوسو اسامیاں ہیں لیکن ایس ایس آر بی کی جانب سے سلیکشن لسٹ منظر عام پر نہ لانے سمجھ سے بالا تر ہے۔اْنہوں نے کہاکہ چار فیصد کوٹا ہمارا حق ہے لیکن ہم سے یہ حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہیں۔مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر اانتظامیہ نے اْن کے جائز مسائل کی اورفوری طورپر توجہ نہیں دی تو وہ غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں