منشیات اسمگلنگ پولیس کے لئے بہت بڑا چلینج ہے: ایس ایس پی بارہمولہ

سری نگر، سینئر سپر انٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) بارہمولہ امود اشوک ناگپور کا کہنا ہے کہ پولیس کے لئے منشیات اسمگلنگ ایک بہت ہی بڑا چلینج ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ گیر مہم چلائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوڑی جیسے سرحدی علاقوں میں پولیس کو اکثر سرحد پار اسمگلنگ سے نمٹنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بارہمولہ ضلع میں گذشتہ 6 مہینوں کے دوران 318 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا ہے اور 187 آیف آئی آر درج کئے ہیں۔

موصوف ایس ایس پی نے ان باتوں کا اظہار منگل کو شمالی کشمیر کے قصبہ اوڑی میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا: ‘منشیات اسمگلنگ ہمارے لئے ایک بہت بڑا چلینج ہے یہاں سرحدی علاقوں میں ہمیں اکثر سرحد پار سمگلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا: ‘میں منشیات فروشوں کو وارننگ دیتا ہوں کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آئیں ورنہ اس کے سخت نتائج بر آمد ہوں گے’۔

مسٹر ناگپور نے کہا کہ پولیس منشیات اسمگلنگ کے چلینج کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ہمہ گیر مہم چلا رہی ہے۔

انہوں نے کہا: ‘بارہمولہ پولیس نے گذشتہ 6 مہینوں کے دوران 318 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا ہے اور 187 ایف آئی آر درج کئے ہیں جن میں سے 34 ہارڈ کور منشیات فروشوں پر پی ایس اے عائد کیا گیا ہے’۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ‘منیشات اسمگلنگ کے چلینج کا مقابلہ کرنے کے لئے پولیس دو محاذوں پر لڑ رہی ہے ایک سپلائی کو کنٹرول کیا جا رہا ہے اور دوسرا اس ضمن میں جانکاری مہمیں چلائی جا رہی ہیں’۔

اوڑی کے سلی کوٹ میں مفت طبی کیمپ کے اہتمام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی بارہمولہ نے کہا کہ یہ کیمپ حکومت کے ‘بارڈر آئوٹ ریچ ‘پروگرام کا ایک حصہ ہے۔

انہوں نے کہا: ‘ اس کا مقصد لوگوں کو صحت کے متعلق مشورہ دینا اور صحت کے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اور ماہرین کیمپ میں موجود ہیں جو لوگوں کا علاج کرتے ہیں اور انہیں صحت کتے متعلق مشورے دیتے ہیں۔

یو این آئی- ایم افضل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں