سری نگر پولیس نے بھتہ خوری میں ملوث دو دوشیزاوں سمیت چار افراد کو دھر لیا

سری نگر، جموں وکشمیر پولیس نے سری نگر میں سرگرم بھتہ خوری اور بلیک میلنگ میں ملوث ایک شاطر گروہ کو بے نقاب کرکے خو د ساختہ نامہ نگار، نقلی پولیس آفیسرو نام نہاد کرائم برانچ آفیسر سمیت چار افراد کو دھر دبوچ کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔

پولیس کے ایک ترجمان نے بتایاکہ لوگوں سے بلیک میلنگ کے ذریعے رقومات اینٹھنے والے چار افراد جن کی شناخت فردوس احمد میر ساکن رعناواری (نقلی ایس پی)، محمد طاریق میر ساکن لالبازار (جعلی رپورٹر )،آسیہ ساکن بمنہ ، اور مسرت ساکن حبہ کدل (نقلی کرائم برانچ آفیسر )کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار شدگان کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 68کے تحت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شرو ع کی گئی۔

موصوف ترجمان کے مطابق گرفتار شدگان میں سے ایک دوشیزہ سادہ لوح افراد کو اپنے جھانسہ میں پھنسا کر مخصوص مقام پر آنے کی دعوت دیتی تھی تو اسی دوران باقی گرفتار شدگان اچانک جائے موقع پر پہنچ کر خود کوپیشہ وارانہ رپورٹر اور پولیس اہلکار ظاہر کرکے لوگوں کو بلیک میل کیا کر کے ان سے موٹی رقومات وصول کرتے تھے۔

گرفتارشدگان میں ایک ملزمہ نے مہجور نگر سری نگر میں واقع اپنی رہائش گاہ کو غیر قانونی سرگرمی کے لئے دستیاب رکھا تھا۔

پولیس نے اس سلسلے میں زیر دفعات392,472,419کے تحت کیس درج کرکے پوچھ تاچھ کا دائرہ وسیع کیا ہے ۔

دریں اثنا عوامی حلقوں نے نام نہاد رپورٹروں اور جعلی صحافیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ حقیقی صحافیوں کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

عوامی حلقوں کے مطابق محکمہ انفارمیشن پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ مائیک اور موبائیل ہاتھ میں لے کر خود کو صحافی جتلا کر عوام کے لئے درد سر بننے والے ان اشخاص کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے فوری اقدامات اُٹھائیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ انفارمیشن محکمہ متحرک ہو کر اصلی اور نقلی رپورٹروں اور صحافیوں کی نشاندہی کرکے صحافت کے مقدس پیشے کو مزید بدنام کرنے سے بچایا جاسکے۔

بعد حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ نام نہاد اور نقلی صحافی فیس بک اور دوسری سوشل میڈیا سائٹوں پر بغیر تحقیق کے حساس معاملات پر تبصرے کرتے ہیں جس وجہ سے کشمیر کی سیاحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

لہذا ایل جی انتظامیہ کو بھی معاملے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے صحافیوں کے لئے رہنما اصول مرتب کرنے چاہئے تاکہ فیس بک اور نقلی صحافیوں کا قلع قمع کیا جاسکے۔

یو این آئی، ارشید بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں