مجوزہ اسمبلی ریزرویشن بل پر این سی کو تحفظات، فیصلہ عوامی منتخبہ حکومت کا حق: نیشنل کانفرنس

سری نگر،نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ تنویر صادق نے جموں وکشمیر اسمبلی میں ریزویشن سے متعلق مرکزی حکومت کی مجوزہ بل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھاجپا جموں وکشمیر میں ذاتی مفادات کی خاطر ریزرویشن بل کا سہارا لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی طبقے کو نمائندگی دینے کیخلاف نہیں ہے لیکن جموں وکشمیرمیں ایوان بالا رکھنے کے پیچھے یہی مقصد تھا جہاں ہر ایک طبقے کو نمائندگی دی جاتی تھے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اسی تنظیم نو ایکٹ کے تحت ہمارے ایوانِ بالا کو ختم کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ایل جی کی جانب سے لوگوں کو نامزد کرنے کی تجویز کی مخالفت کرتی ہے اور ہمارا موقف یہ ہے کہ اسمبلی ممبران کی نامزدگی ایک منتخب عوامی حکومت کا استحقاق ہونا چاہئے نہ کہ دہلی کے غیر منتخب نمائندے کا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایل جی کو نامزد کرنے کا اختیار دیا جانا اس بات کا اعتراف ہے کہ بی جے پی کو یقین ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں اگلا الیکشن ہار جائے گی اور وہ نامزدگی کا راستہ استعمال کر رہی ہے تاکہ مٹھی بھر ممبران کو ایوان میں لانے کی کوشش کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ 2 یا 3 سیٹوں سے بی جے پی کے مستقبل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور انہیں الیکشن کمیشن اور ایل جی کے پیچھے چھپنا بند کر دینا چاہئے۔

تنویر صادق نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس پہلے ہی 2019 کے تنظیم نو ایکٹ کو مسترد کر چکی ہے اور یہ سارا عمل فی الحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس سے تشویش پیدا ہوتی ہے کہ حکومت کسی فیصلے کے ساتھ کیسے آگے بڑھ سکتی ہے جب کہ اس پر سپریم کورٹ میں بحث جاری ہے۔

اس طرح کا فیصلہ آئینی کے منافی اور سپریم کورٹ کی توہین کے مترادف ہیں اور اس طرح کے فیصلہ جمہوری طور پر منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جانا چاہیے تھا۔

یو این آئی- ارشید بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں