مسعودی کا لوک سبھا میں جموں وکشمیر میں فصلوں کیلئے انشورنس سکیم کا مطالبہ

سری نگر، نیشنل کانفرنس رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے حکومت سے موسم کی قہرسامانیوں سے متاثرہ کسانوں کیلئے امدادی پیکیج کے علاوہ درختوں اور فصلوں کو انشورنس سکیم کے دائرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

لوک سبھا میں کشمیر میں باغبانی کے شعبے کو درپیش مسائل کو اٹھاتے ہوئے مسعودی نے کہا کہ باغبانی جموں و کشمیر کی GDPمیں 8.2 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتی ہے۔

کشمیر کے تمام اضلاع خصوصاً شوپیاں، پلوامہ، کولگام اور اننت ناگ میں ژالہ باری ،قہر انگیز بارشوں اور سیلابی ریلوں نے باغات کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔پھلوں سے لدے درختوں بشمول سیب، چیری اور ناشپاتی کے اُکھڑ آئے، جس سے تقریباً 45 لاکھ کسانوں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

مسعودی نے کہا کہ باغبانی کے شعبے کولگ بھگ 200 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پھلوں کی صنعت کو پچھلے سال NH-44 کی بندش اور امریکہ سیب کی درآمدی ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

اس صورتحال میں فصلوں کی بیمہ سکیمیں انتہائی اہم ہو جاتی ہیں کیونکہ یہ کسانوں کو قدرتی آفات یا دیگر غیر متوقع حالات کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کیلئے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

جموں و کشمیر کی مالکان باغات کے مطالبات اُجاگر کرتے ہوئے مسعودی نے حکومت سے کہا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے باغبانی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی امداد میں مزید تاخیر سے گریز کیا جائے۔

یو این آئی، ارشید بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں