اننت ناگ کے کوکر ناگ جنگل علاقے میں انکائونٹر چوتھے روز میں داخل

سری نگر، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکرناگ کے جنگل علاقے میں ہفتے کو مسلسل چوتھے روز بھی سیکورٹی فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق طرفین کے درمیان رات بھر شدید گولیوں کا تبادلہ جاری رہا جس سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔

معلوم ہوا ہے کہ فوج کمین گاہ کو تباہ کرنے کی خاطر موٹار شیلوں، راکٹ لانچروں اور ڈرون کا استعمال کر رہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے جبکہ گڈول پہاڑی علاقے کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات کی اور منتقل کیا گیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وجے کمار نے جمعہ کی شام ایک ٹویٹ کہا کہ جنگل میں پھنسے دو یا تین جنگجوئوں کو مار گرایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن ایک مخصوص ان پٹ کی بنیاد پر لانچ کیا گیا تھا۔

دفاعی ذرائع نے بتایا کہ محصور ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کارلایا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ساخت کے ڈرونز کی بھی خدمات حاصل کی گئی۔

سوشل میڈیا پر وائرل سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملی ٹینٹوں کو کمین گاہ سے باہر آتے ہوئے صاف دیکھا جاسکتا ہے۔

بتادیں کہ سیکورٹی فورسز نے بدھ کے روز ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا جس دوران تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی ہمایوں بٹ، کرنل منپریت سنگھ اور میجر آشیش دھونک سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔

دریں اثنا پولیس سربراہ دلباغ سنگھ، اے ڈی جی پی وجے کمار ، کور کمانڈر کوکر ناگ میں خیمہ زن ہیں اور وہ آپریشن کی از خود نگرانی کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس فوج اور پولیس کے سینئر آفیسران گراونڈ پر موجود سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہدایات دے رہے ہیں۔

یو این آئی ایم افضل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں