دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ہونا موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف : اے ڈی جی سی آر پی ایف

سری نگر،سی آر پی ایف کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نالن پربھات نے پیر کے روز کہاکہ جموں وکشمیر میں دہشت گردی اب مروج نہیں ہے بلکہ اس کو ایک ”غلط لفظ “کے طورتصور کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب بھی کوئی ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہوتا ہے تو وہ اپنے موت کی وارنٹ پر خود ہی دستخط کر لیتا ہے.ان باتوں کا اظہار موصوف نے شوپیاں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں اور لوگ بھی اب آزاد فضاوں سانس لے رہے ہیں۔اے ڈی جی سی آر پی ایف نے کہاکہ جموں وکشمیر میں دہشت گردی اب فیشن نہیں بلکہ ایک گندے لفظ کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔ جموں وکشمیر میں کتنے ملی ٹینٹ سرگرم ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انجام سب کا ایک ہی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یوٹی میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد 20ہو یا 50سب کو ٹھکانے لگایا جائے گا۔

ان کے مطابق دہشت گرد اب آئیکون نہیں بلکہ وہ بچے ریاست کے ہیرو ہیں جو آگے بڑھ کر کھلاڑی ، ڈاکٹر اور انجینئر بن کر ریاست اور ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔سی آر پی ایف کے سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں دہشت گردی کا پوری طرح سے خاتمہ کرنے کی خاطر سیکورٹی ایجنسیاں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا :”دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی خاطر زمینی سطح پر کام ہو رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب جموں وکشمیر سے ملی ٹینسی کا پوری طرح سے خاتمہ ہوگا‘‘۔

یو این آئی- ارشید بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں