پونچھ شہری ہلاکتیں: سری نگر میں نیشنل کانفرنس اور اپنی پارٹی کا احتجاج

سری نگر،جموں وکشمیر کے بفلیاز پونچھ میں مبینہ شہری ہلاکتوں کے خلاف ہفتے کے روز نیشنل کانفرنس اور اپنی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں نے احتجاج جلوس نکالا تاہم پولیس نے ریلی کے شرکاء کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔

اس موقع پر نیشنل کانفرنس اور اپنی پارٹی نے معصوم شہریوں کی مبینہ طورپر حراستی ہلاکتوں کی تحقیقات اور ملوثین کو قرارواقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔

اطلاعات کے مطابق بفلیاز پونچھ میں مبینہ شہری ہلاکتوں کے خلاف نیشنل کانفرنس نے ہفتے کے روز پارٹی ہیڈ کواٹر سے ایک احتجاجی جلوس نکالا تاہم پولیس نے دفتر کے مین گیٹ کو پہلے ہی بند کیا جس وجہ سے جلوس کے شرکاء باہر نہیں آسکے۔

احتجاج کررہے پارٹی لیڈران اور عہدیداران نے بفلیاز میں دھیرہ کی گلی علاقے میں معصوم شہریوں کی مبینہ طور پر حراستی ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور خاطیوں کو قرارواقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے ہلاکتوں کی جوڈیشل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اصل حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے۔

انہوں نے گورنر انتظامیہ کیساتھ ساتھ مرکزی سرکار پر زور دیا ہے کہ کشمیر میں ایسے خون ناحق اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کو روکنے کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات اُٹھانے کے ساتھ ساتھ اس سانحہ میں ملوثین کو نشاندہی کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ بفلیاز واقعہ سے منسلک سوشل میڈیا پر وائرل مبینہ ویڈیو نے عوام کے دل مجروح کردیئے ہیں اور ایسے میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرا کے مہلوکین کے لواحقین کو انصاف فراہم کرے۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس بفلیاز حملے میں 5فوجیوں کی ہلاکت کی بھی مذمت کرتی ہے اور ایسے واقعات کی کبھی بھی حامی نہیں رہی ہے۔ ہماری جماعت ہمیشہ عدم تشدد کی حامی رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ حالات ٹھیک ہوجائیں لیکن حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جارہے ہیں۔

پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے پولیس کی طرف سے نیشنل کانفرنس کی ریلی پر قدغن کی مذمت کی اور کہا کہ ہم پُرامن طریقے سے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کیخلاف احتجاج کرنا چاہتے تھے اور ہم پُرامن طریقے سے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کررہے تھے لیکن ہمیں طاقت کے بلبوتے ہر پُرامن احتجاج کرنے سے بھی باز رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہیں۔

اس سے قبل پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس میں بھی بفلیاز حملے کی مذمت کے ساتھ ساتھ ایک قرارداد کے ذریعے 3عام شہریوں کی ہلاکتوں کی جوڈیشل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔

دریں اثنا اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر اشرف میر کی سربراہی میں سری نگر کے پارٹی دفتر سے ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے جلوس کے شرکاءکو آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔

نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر اشرف میر نے کہا :”بفلیاز میں ہوئے ملی ٹینٹ حملے کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں لیکن جن عام شہریوں کا قتل کیا گیا ان کے گھر والوں کو بھی انصاف ملنا چاہئے۔“

انہوں نے کہاکہ بفلیاز کے لوگ خوفزدہ ہیں، وہاں سے ویڈیز وائرل ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ بند ہے جس وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اشرف میر نے کہاکہ ہفتے کے رو ز شہری ہلاکتوں کے خلاف اپنی پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں نے پر امن طورپر احتجاج جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے مین گیٹ کو ہی بند کیا اور اس طرح سے ہمیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔

یو این آئی- ارشید بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں