کشمیر میں زمستانی ہواؤں کا زور تیز تر، پہلگام سرد ترین مقام

سری نگر، وادی کشمیر میں خشک موسم کے بیچ شبانہ درجہ حرارت میں ایک بار پھر گراوٹ کے ساتھ زمستانی ہوائوں کا زور تیز تر ہوا ہے۔وادی میں جاری ٹھٹھری سردیوں سے جہاں آبی ذخائر صبح کے وقت جم جاتے ہیں وہیں لوگوں کو صبح اور شام کے وقت گھروں سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی3.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارد ہوا تھا۔وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب بھی یہی درجہ حرارت ریکارڈ ہوا تھا۔وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی4.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی2.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی3.0 ڈگری سینٹی گریڈ ہوا تھا۔

لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی10.6 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی10.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں 14 جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا وادی میں 6 سے 8 جنوری تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے جس کے بعد 9 جنوری کو موسم ابر آلود رہ سکتا ہے جس دوران پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برف باری متوقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں وادی میں 10 سے 14 جنوری تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں چالیس روزہ چلہ کلان 21 دسمبر سے مسند اقتدار پر پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔چلہ کلان جو ’شہنشہاہ زمستان‘ کے نام سے بھی وادی کے قرب وجوار میں مشہور ہے،21 دسمبر سے شروع ہو کر 31 جنوری کو اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔

یو این آئی ایم افضل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں