ریتلے پاور پروجیکٹ معاہدے کی شرائط و ضوابط بظاہر جموں و کشمیر کیلئے نقصان دہ : نیشنل کانفرنس

سری نگر، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے حکومت سے”جے کے ایس پی ڈی سی“،راجستھان ارجہ وکاس اور آئی ٹی سروسز لمیٹڈ کے درمیان ہونے والے مبہم معاہدے پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کو کہا کیونکہ اس نے جموں و کشمیر کے عام میں کافی خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔

پارٹی کے ریاستی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ معاہدے سے لوگوں میں غم و غصے کی لہر پائی جارہی ہے کیونکہ اس کی شرائط و ضوابط بظاہر جموں و کشمیر کیلئے نقصاندہ نظر آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاور پرچیز ایگریمنٹ عموماً زیادہ سے زیادہ 20 سال تک رہتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں 40 سال کیلئے پہلے سے طے شدہ قیمت پر دستخط کئے گئے ہیں، اور وہ بھی نامعلوم ہیں۔

جموں و کشمیر کے عوام میں پہلے سے ہی دھوکہ دہی کا احساس پیدا ہے کہ ان کے وسائل کو لوٹا جا رہا ہے اور راجستھان ارجہ وکاس اور آئی ٹی سروسز کے کمرشل آپریشن سے 40 سال کی مدت کے لئے بجلی لینے کے تازہ ابہام سے پُر معاہدے نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ان کے مطابق حکومت کو اس معاہدے پر ایک وائٹ پیپر لانا چاہئے جس میں لوگوں کو اس کے بنیادی مقصد کے بارے میں بتایا جائے اور اس سے جموں و کشمیر کو کیا فوائد حاصل ہوں گے۔

عمران نے مزید کہا کہ حکومت کو سب سے پہلے گھریلو صارفین کو بجلی فراہم کرنے کو ترجیح دینی چاہئے تھی کیونکہ پورے جموں و کشمیر میں برقی رو کے بحران کو اب تک ختم نہیں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے بجلی سے محروم لوگوں کے لئے، کیا یہ معاہدہ کوئی حل ہے؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔اس کا کوئی مطلب نہیں ہے کہ ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر بجلی کے بحران سے دوچار ہے، حکومت دوسری ریاستوں کو بجلی بیچ رہی ہے۔

یو این آئی، ارشید بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں