اینٹی کرپشن بیورو نے خاتون سائنٹسٹ کو رشوت لیتے ہوئے گرفتارکیا

سری نگر، اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے پیر کے روز سٹیٹ پولیشن کنٹرول بورڈ میں تعینات سائنٹسٹ( بی) ڈاکٹر بلقیس آرا کو پانچ ہزار روپیہ کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں دھر دبوچ کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔

اے سی بی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اینٹی کرپشن بیورو میں سائل نے سٹیٹ پلویشن کنٹرول بورڈ میں تعینات خاتون سائنٹسٹ ڈاکٹر بلقیس کے خلاف تحریری طورپر شکایت درج کی کہ انڈسٹریل ایریا کھنموہ میں واقع بیکری یونٹ کی خاطر ’سی ٹی او‘ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لئے رشوت کا تقاضہ کر رہی ہیں۔

شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ نومبر 2023میں سٹیٹ پلویشن کنٹرول بورڈ میں سی ٹی او کے حصول کی خاطر درخواست جمع کی ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ درخواست ڈاکٹر بلقیس کے پاس زیر التوا تھی اور وہ اس معاملے میں غیر ضروری طورپر تاخیر کر رہی ہے۔

ان کے مطابق رواں ماہ کی چھ تاریخ کو ملزمہ سے پی سی بی آفس میں ملاقات کی اور جلدازجلد سی ٹی او جاری کرنے کی استدعا کی۔

شکایت کنندہ نے مزید بتایا کہ ملزمہ نے سی ٹی او کے اجرا کی خاطر20ہزار روپیہ کی رشوت طلب کی تاہم بات چیت کے بعد رقم پانچ ہزار روپیہ طے پائی ۔

سائل نے رشوت دینے کے بجائے اینٹی کرپشن بیورو کے ساتھ رابط قائم کرکے راشی آفیسر کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کی استدعا کی۔

اے سی بی ترجمان کے مطابق اینٹی کرپشن بیورو نے اس ضمن میں ایف آئی آر زیر نمبر 2/2024کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ۔

ترجمان نے بتایا کہ اے سی بی نے جال بھایا جس دوران خاتون سائنٹسٹ کو شکایت کنندہ سے پانچ ہزار روپیہ کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں دھر دبوچا گیا ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزمہ جس کی شناخت ڈاکٹر بلقیس آرا صدیقی دختر غلام نبی ساکن سرنل (گلشن آباد) اننت ناگ کے بطور ہوئی ہے کے قبضے سے رشوت کی رقم برآمد کرکے ضبط کی گئی ۔

اے سی بی کے مطابق اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہے۔

یو این آئی – ارشید بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں