پارٹی میں انتشار پیدا کرنے والے لیڈران کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے،مظفر حسین بیگ

خبراردو:

پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ نے مخلوط حکومت گرنے کے بعد پہلی بار اپنی خاموشی توڑتے ہوئے پی ڈی پی ممبران سے متحد و یکجا ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی کسی بھی وقت اقتدار میں آسکتی ہے۔ مظفر حسین بیگ نے کہا کہ پارٹی صدر محبوبہ مفتی کو ناراض ممبران کی شکایتوں کو سن کر اُن کا ازالہ کرنا چاہیے۔

۔ پی ڈی پی لیڈر مظفر حسین بیگ نے ہے کہا کہ میں پارٹی کا دیرینہ کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی صدر بھی رہ چکا ہوں اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے ہی پارٹی کا آئین تشکیل دیا ہے۔لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ پی ڈی پی کے بارے میں مجھ سے زیادہ کوئی اور فکر مند نہیں ہوگا، اسی لیے انہوں نے ممبران سے اپیل کرتے ہوئے متحد ہوکر پارٹی کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض ممبران کو اپنی ناراضگی کو دفن کرکے غیروں کی سازشوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور نا ہی افواہ بازی پر دھیان دینا چاہیے ۔

مظفر حسین بیگ نے بتایا کہ’’ میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ پارٹی کے کچھ ممبران اپنے آپ کو بے کس محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے مجھ سے صلاح مشورے کے بغیر ہی فیصلے لیے، لہٰذا ناراض ممبران کو ہمت و حوصلہ دکھا کر متحد رہتے ہوئے پارٹی کے مجموعی مفاد میں کام کرنا چاہیے‘‘۔

پارٹی صدر محبوبہ مفتی کے ساتھ کئی ممبران کی میٹنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سینئر پی ڈی پی لیڈر نے بتایا کہ میں نے میٹنگ کے متعلق سنا کہ پارٹی صدر نے ممبران کو یقین دلایا کہ پارٹی اُن لیڈران کے خلاف ضرورکارروائی کو یقینی بنائے گی جنہوں نے بعض ممبران اسمبلی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔انہوں نے بتایا کہ میرا پارٹی صدر محبوبہ مفتی کو مشورہ ہے کہ وہ ایسے لیڈران کے خلاف سخت انضباطی کارروائی عمل میں لائے جن کی وجہ سے پارٹی کے اندر خلفشارپیدا ہوا۔

محبوبہ مفتی قیادت والی حکومت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مظفر حسین بیگ نے بتایا کہ میں نے ذاتی طور پر مختلف مواقع پر واضح کردیا کہ مخلوط حکومت صحیح طریقے سے کام نہیں کررہی ہے جبکہ اس بات کا تذکرہ پارٹی کی کئی میٹنگوں اور فورموں میں کیا۔ پی ڈی پی لیڈر نے ممبران سے دوبارہ پارٹی کی ساکھ بحال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس کے لیے متحد ہوکر کام کرنا ہوگا کیوں کہ مخلوط حکومت کے دور میں ہماری پارٹی کی شناخت کو کافی زک پہنچا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی دو تین سال موجود ہے لہٰذا ہمیں پارٹی کو زمینی سطح پر دوبارہ فعال اور مضبوط بنانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔مخلوط حکومت کے گرجانے پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں جلد بازی میں کوئی بات نہیں کرتا ہوں کیوں کہ میں حالات و واقعات کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کرکے ہی اپنی رائے ظاہر کرتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں