خبراردو:
رواں برس ریاست میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کے دوران جنوری 2018سے لے کر جو لائی 2018تک 256پُر تشدد واقعات رو نماء ہو ئے ہیں جن میں 100جنگجو ،43فورسز اہلکار اور16عام شہری مارے گئے ۔
پار لیمنٹ میں پیش کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق سال 2016اور سال 2017میں بالتر تیب 322اور 342پر تشدد واقعات پیش آئے جن میں 150جنگجو ،82فورسز اہلکاروں کے علاوہ15عام شہری بھی مارے گئے ۔جبکہ سال 2017کے دوران 213جنگجو ،80فورسز اہلکاروں کے علاوہ40عام شہری مارے گئے ۔
مر کزی وزیر مملکت برائے داخلہ نے پارلیمنٹ میں اعدادو شمار پیش کرتے ہو ئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر میں رواں برس جنوری سے لے کر جو لائی تک 256پُر تشدد واقعات رو نماء ہو ئے ہیں جن میں 100جنگجو ،43فورسز اہلکار اور16عام شہری مارے گئے۔وزیر مملکت کی جانب سے پارلیمنٹ میں اعدادو شمار پیش کر تے ہو ئے بتایا گیا کہ اسی طرح سال 2016اور سال2017میں بھی سیکڑوں پُر تشدد واقعات پیش آئے جس کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو ئے ۔
انہوں نے اعدادو شمار پیش کر تے ہو ئے کہا کہ سال 2016اور سال 2017میں بالتر تیب 322اور 342پر تشدد واقعات پیش آئے جن میں 150جنگجو ،82فورسز اہلکاروں کے علاوہ15عام شہری بھی مارے گئے ۔جبکہ سال 2017کے دوران 213جنگجو ،80فورسز اہلکاروں کے علاوہ40عام شہری مارے گئے ۔
متعلقہ وزیر مملکت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس دوران ملک کی دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے 2نو جوانوں کو ریاست جموں کشمیر میں سنگ بازی میں ملوث پایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے سال 2018میں ان کے خلاف مقدمے بھی در ج کئے گئے ۔مر کزی وزیر مملکت گنگا رام آہیر نے پارلیمنٹ میں ریاست جموں کشمیر میں پر تشدد واقعات کے بارے میں پو چھے گئے ایک سوال کے جواب میں اعدا دو شمار پیش کئے ۔








