خبر اردو :
ملک کی مجموعی صورتحال میں فوری بدلاؤ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان اب وہ ہندوستان نہیں رہا ، جہاں مسلم، سکھ ، ہندو ، عیسائی، بودھ اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادی حاصل تھی کیوں کہ ملک اس وقت مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے چنگل میں آچکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں خون کا کھیل فوری طور پر بند ہونا چاہئے اور یہاں کے لوگوں کو امن، سکون اور چین کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کیا جانا چاہئے۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ہندوستان اب وہ ہندوستان نہیں رہا ، جہاں مسلم، سکھ ، ہندو ، عیسائی، بودھ اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادی حاصل تھی، ملک اس وقت مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے چنگل میں آچکا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ہندوستان میں اقلیتوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیاہے، اقلیتوں اور کمزور طبقوں کے لوگوں کو بے رحمی سے قتل کرنے کے واقعات آئے روز رونما ہوتے ہیں، جو ملک کی تباہی اور بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ یہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل تھی اور آئین ہند میں بھی تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کو تحفظ دیا گیا تھا لیکن فرقہ پرستوں کے غلبے کے بعد ان اصولوں کو تہس نہس کیا جارہا ہے۔ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میں موت کا رقص جاری ہے، ہم اس وقت ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے انسانیت کانپ اُٹھی ہے۔ اکثر اوقات تو بے گناہ اور معصوم لوگوں کو اس بات کی خبر نہیں ہوتی کہ اُن کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے اور مارنے والوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں کسی کی جان لے رہے ہیں۔
کشمیر میں خون کا یہ کھیل فوری طور پر بند ہونا چاہئے اور یہاں کے لوگوں کو امن، سکون اور چین کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کیا جانا چاہئے۔ اہل کشمیر سے اتحاد و اتفاق کی اپیل کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمارے مشکلات اور مسائل اُسی صورت میں حل ہوسکتے ہیں جب ہم متحد ، یکسو اور یک زبان ہونگے۔ اتحاد میں ہی ہم منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر ہم اب بھی ٹولیوں میں بٹتے گئے تو ہم ہماری شناخت، انفرادیت ، اجتماعیت اور وحدت داؤ پر لگ جائیگی۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رکن پارلیمان نے کہا کہ اسی صورت میں جموں وکشمیر اور خطے میں مکمل اور دیگر پا امن قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی کمی نہیں جو دونوں ممالک میں دوستی اور امن کے مخالف ہیں، ایسے عناصر کے مذموم ارادوں اور سازشوں کو ناکام بنا کر خطے میں دیر پا امن کیلئے ہندوستان اور پاکستان کی قیادت کو آگے آکر نئی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔








