خبر اردو :
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صد راور ترجمان اعلیٰ رویندر رینا نے مسئلہ کشمیر کو انتخابی سیاست سے جوڑنے کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں جب بھی الیکشن منعقد ہوئے تو یہاں کے لوگوں نے صرف سڑک، پانی اور بجلی کے لیے ہی ووٹ دئے۔ انہوں نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر کا انتخابی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کیوں کہ ریاستی عوام کو زمینی سطح پر کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی لیے وہ انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں۔
رویندر رینا نے بتایا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو صرف روز مرہ کے مسائل کو لے کر ہی ہوتے ہیں۔ ’جو بھی سیاست دان لوگوں کے سامنے جاتا ہے وہ صرف سڑک، پانی اور بجلی جیسے بنیادی ضروریات کو لے کر ہی ووٹ حاصل کرتا ہے‘۔جب ان سے پوچھا گیا کہ یہاں ہوئے انتخابات کے بعد نئی دہلی اس کو اپنے حق میں پیش کرتی ہے، پر بی جے پی لیڈر نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر اور انتخابی سیاست دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
انہوں نے علیحدگی پسندوں پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ریاست میں امن و امان کو کبھی بھی بحال ہونے نہیں دیا۔ ’صلاح الدین کے بیٹے نے بندوق نہیں اُٹھائی، انہوں نے پتھر نہیں پھینکے، وہ سرکاری نوکری کرکے خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، وہ کبھی بھی سڑکوں پر احتجاج نہیں کرتے مگر بدقسمتی سے یہاں صرف غریب کے بچوں کے ہاتھوں میں بندوق تھمائی جاتی ہے، ان کے ذریعے سنگ باری کروائی جاتی ہے، انہیں سڑک پر احتجاج کرنے کے لیے اکسایا جاتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ علیحدگی پسندوں کے بچے بیرون ریاست اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جب کہ بعض کے بچے ریاست کے سرکاری اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہے۔
ریاست میں پنچایتی اور اربن لوکل باڈیز انتخابات کے انعقاد پر بولتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بی جے پی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بالکل تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم آنے والے دنوں میں جنوبی کشمیر میں عوامی رابطے بحال کرنے کی کوشش شروع کریں گے تاکہ انتخابات کے لیے راہ ہموار ہوجائے۔انہوں نے بتایا کہ اگر ریاستی گورنر این این ووہر ا ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا ریاست میں انتخابات کے حوالے سے نوٹیفکیشن اجرا کرتے ہیں تو بی جے پی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے بالکل تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں جمہوری اداروں کو بحال کرنا ناگزیر ہے جس کے لیے انتخابات کا انعقاد ایک لازمی عمل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنوبی کشمیر سے لوگ انتخابات کے دوران جوق در جوق الیکشن بوتھوں کا رخ کریں گے۔بی جے پی لیڈر نے بتایا کہ ریاست میں اس وقت لوگوں کو زمینی سطح پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ لوگ اس وقت پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ بہت سارے مقامات پر بجلی کا نام و نشان نہیں ہے۔ لہٰذ ایسے بھی ایک منتخب حکومت ہی عوامی پریشانیوں کا ازالہ کرسکتی ہے ۔ ریاست کی سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پر حال ہی میں انسداد دہشت گرد فرنٹ آف انڈیا کی جانب سے دائر کئے گئے مقدمے پر بی جے پی لیڈر نے کچھ بھی کہنے سے انکار کیا۔








