مر کز کی ملی ٹنٹ رپورٹ : نوجوانوں کا بندوق کی طرف بڑھتا رجحان ’’ تشویشناک


رضوان سلطان :

مرکزکی طرف سے ۱۸ جولا ئی کو پارلیمنٹ میں رواں سال میں وادی کی صورتحال پر رپورٹ پیش کی گئی ہے۔یہ رپورٹ وزیر مملکت ہنس راج گنگا رام اہیر نے پیش کی ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۱۸ میں وادی میں 256تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں ، جن میں ۱۰۰ جنگجو ،۴۳ فورسز اہلکار اور ۱۶ عام شہری مارے گئے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق ۱۶ اور ۱۷ کے مقابلے میں رواں برس تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔رواں برس میں جہاں چھہ مہینوں میں ۲۵۶ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں وہیں ۲۰۱۶ میں 322اور ۱۷ میں 342تشدد کے واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں

وہیں اس سال ملی ٹنسی کی طرف نوجوانوں کا برھتا رجحان ایک بار پھر سے تشویش کا سبب بنا ہے ۔پچھلے سال جہاں ۱۱۰ نوجوان جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوئے تھے وہیں ۲۰۱۸ کے سال میں تشویشناک اضافہ بھی دیکھا گیا ہے ۔

ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق اس سال پرفیسر محمد رفیع اور سکالر مننان وانی جیسے نوجوانوں سمیت چھہ مہینوں میں ۱۱۰ نوجوانوں نے بندوق کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ مجموعی طور پروادی میں ۲۸۰ سے ۳۰۰ تک جنگجو موجود ہیں ۔جن میں زیادہ تعداد جنوبی کشمیر کے پلوامہ ،اننت ناگ ،شوپیان ، اورکلگام سے دیکھی گئی ہے ۔

فورسز کی طرف سے ملی ٹنسی کو ختم کرنے کے لئے ۲۰۱۷ میں آپریشن آل آوٹ شروع کیا گیا تھا جسکے تحت پچھلے سال ۲۲۰ ملی ٹنت مارے گئے تھے ۔لیکن اس کے باوجود بھی نوجوان ملی ٹنسی کے راستے کو گلے لگا رہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ کبھی بھہ وہ اپنی جان گنوا سکتے ہیں ،جو کہ ایک بہت ہی تشویشناک صورتحال کو بیان کرتا ہے ،۔۔۲۲۰ کو ما رنے کے بعد بھی اب ۲۰۱۸ کے سال میں دیکن ہیرالڈ کے مطاقب ۳۳۰ تک موجود ہیں ۔

سوال یہ کہ ملی ٹنسی کا سلسلہ کب اور کیسے ختم ہو گا۔ آپریشن آل آوٹ جب شروع تو کیا گیا تھا تب بھی جنگجوؤں کی تعداد اتنی ہی بتائی گئی تھی جو آج ۳۰۰ کے قریب بتائی جا رہی ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا نوجوانوں کے کے بندوق کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھا جائے یا جو اس راستے کو گلے لگانے والے نوجوانوں کو ختم کرنے سے مسئلہ حل ہو اگا ؟ْ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں