خبراردو:
عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے سرکار پر سیاسی قیدیوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے نامی سیاسی کارکن نور خان کی کوٹ بھلوال جیل جموں میں ہوئی موت کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔آج یہاں سے جاری کردہ ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا’’حکام کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ پی ایس اے یا دیگر کالے قوانین کے تحت نظربند لوگ کوئی مجرم نہیں ہیں بلکہ وہ سیاسی قیدی ہیں اور نظربندی کے دوران انہیں حاصل بنیادی حقوق کو کسی بھی طرح پامال نہیں کیا جانا چاہیئے۔
یہ بات انتہائی فکرمندی اور تشویش کی ہے کہ کئی جیلوں میں نظربند وں کو نہ ملاقاتیوں سے ملنے دیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں طبی سہولیات بہم رکھی جارہی ہیں جو حالانکہ انکے بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔ نور خان کی جیل میں موت ہونے سے نہ صرف جیل اصلاحات کی سرکاری دعویداری کھوکھلی ثابت ہوئی ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جیل حکام نظربندوں کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔سرکار کو اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرواکے اس بات کا پتہ لگانا چاہیئے کہ نور خان کی موت کن حالات میں ہوئی ہے اور انہیں بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے میں لیت و لعل کرنے والوں کو سزا دی جانی چاہیئے کہ جو اس نظربند کی موت کے اصل ذمہ دار ہیں‘‘۔
نجینئر رشید نے پولیس پر کپوارہ کے عمر فاروق نامی دس سالہ معصوم بچے کو تلاش کرنے میں سسُتی دکھانے کا الزام لگایا کہ جسکی پامال شدہ لاش بر آمد ہوئی ہے۔ پولس اپنی مرضی اور مفاد کے مطابق ترجیحات طے کرتی ہے اور ان معاملات کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیاجاتا ہے کہ جن کا ملی ٹینٹوں کے بڑھتے معمول کو حل کرنے کی دعویداری لئے سامنے آتی ہیں وہیں آج عام لوگ یہ سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ ان فورسز کیلئے ایک دس سالہ بچے کے اغوا کا معاملہ تب تک کیوں حل نہ ہوسکا کہ جب تک اسی کے ساتھ راست واسطہ نہ ہو۔اگر لوگ اپنے گھروں میں خوفزدہ محسوس کرتے ہیں اور بچے اپنے گھر آنگن میں بھی محفوظ نہیں ہیں تو پھر پولس کو اپنا محاسبہ کرتے ہوئے خود ہی طے کرنا چاہیئے کہ لوگوں کو احساس تحفظ دلانے کی اسکی دعویداری کتنی صحیح ہے‘‘۔
انجینئر رشید نے لوگوں سے یہ حقیقت نہ بھولنے کی اپیل کی ہے کہ اس معصوم بچے کی بے رحمانہ موت نے ہمارے سماج کے دن بہ دن تباہی کی طرف جانے کے کڑوے سچ کو بے نقاب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی روشنی میں اس بات پر غور کیا جانا چاہیئے کہ ہمارا سماج کس حد تک دن بدن حیوانیت کی طرف جارہا ہے اور ہمارے یہاں انسانی زندگی کس قدر سستی ہوچکی ہے۔








