جموں کشمیر پولیس اہلکاروں کے جسم پر اب ہونگے کیمرے نصب

خبراردو :

محکمہ پولیس نے سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کرنے اور ڈیوٹی کے دوران شفافیت کے ساتھ ذمہ داری انجام دینے کی غرض سے اہلکاروں کے جسم پر کیمرہ نصب کرنے کا ارادہ کرلیا ہے جس کے لیے محکمہ آنے والے دنوں میں جسم پر نصب ہونے والے کیمروں کی بڑی کھیپ خریدنے جارہی ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے بتایا کہ اگر چہ محکمہ میں اہلکاروں کی بڑی تعداد ہونے کے باعث سبھی اہلکاروں کے ساتھ کیمرہ نصب کرنا ناممکن عمل ہے لہٰذ ااس حوالے سے پہلے مرحلے کے تحت صرف اُن اہلکاروں کو اس کے لیے منتخب کیا جائے گا جو امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ٹریفک کا نظم ونسق چلانے کے لیے مکلف ہیں۔
محکمہ پولیس بہتر حفاظتی اقدام کے بطور آنے والے دنوں میں اہلکاروں کے جسم پر کیمرے نصب کرنے کا منصوبہ تیار کررہی ہے۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریاستی پولیس اپنے اہلکاروں کے جسم پر چھوٹے کیمرے نصب کرنے جارہی ہے تاکہ اس سے پولیس کے سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیوٹی کے دوران اہلکاروں کی حرکات و سکنات پر کڑی نگاہ رہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں اگر چہ پولیس ہی اندرونی سلامتی کی ذمہ داری انجام دے رہی ہے لہٰذا ایسے میں یہاں امن و قانون کی صورتحال پر کڑی نگاہ رکھنے کی خاطر سخت اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ کسی بھی شرپسند عناصر کو حالات کا رخ موڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ وادی میں تعینات سیکورٹی ایجنسیوں نے پہلے ہی مختلف اضلاع اور تحصیلات میں حساس مقامات پر سیکورٹی کیمرے نصب کرکے شرپسندوں کی حرکات کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے تاہم ابھی بھی یہاں ایسے کئی عناصر موجود ہیں جہاں عوامی بھیڑ کا فائدہ اُٹھاکر امن و قانون کی صورتحال میں رخنہ ڈالنے کا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ 2برسوں کے دوران جنوبی کشمیرکے کولگام، اسلام آباد، شوپیان اور پلوامہ سمیت وسطی کشمیر کے سرینگر اور بڈگام میں پولیس اہلکاروں پر بھیڑ بھاڑ والے علاقوں اور بازاروں میں دن دھاڑے جنگجوؤں نے حملے انجام دئے جس کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکاروں نے اپنی جانیں گنوائیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران حملہ آور جنگجوؤں نے پولیس اہلکاروں سے ہتھیار بھی اُڑائے جس کو لے کر یہاں کی سیکورٹی ایجنسیاں تشویش میں ہیں۔ پولیس ذرائع نے ان کیمروں کی افادیت پر بولتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی یہ کیمرے پولیس اہلکاروں کے جسم پر نصب کئے جائیں گے اس سے بھیڑ باڑ والے علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رہے گی۔ ساتھ ہی پولیس اہلکار بھی بڑے چاک و چوبند کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

ادھر ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے بتایا کہ اگر چہ محکمہ پولیس میں افرادی قوت بہت زیادہ ہے تاہم سبھی اہلکاروں کے جسم پر ایسے کیمرے نصب نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں محکمہ اُن اہلکاروں پر کیمرے نصب کرے گا جو امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں جبکہ ٹریفک کی نقل و حرکت کا نظم و نسق کے لیے مکلف اہلکار بھی اس میں شامل کئے جائیں گے۔اس سلسلے میں پولیس کے صوبائی سربراہ ایس پی پانی نے بتایا کہ مذکورہ کیمرے پولیس کی وردی پر نصب کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اہم قدم ہے جو پولیس اور عام لوگوں کے درمیان رابطے کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بنانے کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کے اندر جوابدہی کے تصور کو اُؓبھارے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں محکمہ اپنے اہلکاروں کو تربیت فراہم کررہا ہے ۔ یاد رہے ریاست میں تعینات سی آر پی ایف پہلے سے ہی ایسے کیمروں کا استعمال کررہی ہے ۔ اس سلسلے میں آئی جی سی آر پی ایف ذو الفقار حسن نے بتایا کہ یہ سیکورٹی معاملات کے حوالے سے انتہائی اہم اقدام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیمروں کو جسم پر نصب کرنے سے کنٹرول روم میں بیٹھے اہلکاروں کو زمینی صورتحال کی پوری جانکاری رہتی ہے اور اس عمل سے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں خاصی مدد مہیا ہوجاتی ہے۔ ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں حالات سے نبردآزماہونے کے لیے متعدد پولیس تھانوں کو کرائم اینڈ کریمنل ٹریکنگ نیٹ ورک سسٹم سے جوڑا جارہا ہے۔

پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ اس سٹم کے تحت پہلے ہی 86پولیس اسٹیشنوں میں سے 78پولیس اسٹیشن اس کے ساتھ منسلک کئے جاچکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حالات پر پولیس اہلکاروں کے اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرنے، گہرائی سے نظر رکھنے، شرپسندوں کی حرکات پرکڑی نگاہ رکھنے اور امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے محکمہ پولیس مزید سی سی ٹی ویز نصب کررہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں