ریاست جموں کشمیر میں ’’بڑھتی بے روزگاری‘‘ ایک سنگین مسئلہ

رضوان سلطان :
وہ کو ن سا مسلہ ہے جس میں ریاست جموں کشمیر آگے نہ ہو ،جہاں بھارت کی سب سے زیادہ ۵ بدعنوان ریاستوں میں ایک ریاست جموں کشمیر بھی ہے ،وہیں اب WHO نے دنیا کے دس سب سے زیادہ گندگی والے شہروں میں سرینگر کوبھی رواں سال جگہ دی ہے ۔لیکن ان مسائل کے علاوہ سب سے بڑا مسلہ اس وقت ریاست میں بے روزگاری کا ہے .
centre for monitering ecomoy in india
کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں سب سے زیادہ بیروزگاری کی شرح فیصد میں اضافہ ہونے کا درجہ ریاست کو ہی ہے ۔
رپور ٹ کے مطابق ریاست میں ۲۰۱۷ میں سب سے زیادہ ۱۳۔۱۲ فیصد بیروزگاری کی شرح فیصد ہے ۔جو کہ بھارت میں سب سے زیادہ ہے ۔

لیبر منسٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق کمشیر میں پورے بھارت میں سے زیادہ بے روزگاری بتائی گئی ہے ۲۰۱۶ میں منسٹری کی طرف سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق ریاست میں ۱۰۰۰ پڑھے لکھے نوجوانوں میں ۷۲بے روزگار ہیں ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ۲۰۱۱ سینسکس کے مطابق ریاست میں ۹ لاکھ بے روز گار نوجوان پڑے ہیں ۔

بے روز گاری ہی معاشرے میں بڑتھے جرائم کی وجہ ہے ،جس نوجوان کے پاس وقت پر پیسہ نہ ہوتو وہ مختلف جرائم کا سہارا لے کر اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے مجبور ہو جا تا ہے ۔

بے روزگاری سے دوسرا مسلہ یہ بھی پیدا ہو اہے کہ شاد ی کے لایق نوجوان شادی اس لئے نہیں کرتے کیوں کہ ان کے پاس روز گار نہیں ہے ،جو معاشرے میں کئی خرابیوں میں جنم دیتا ہے ۔
روز گار نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔

ریاست میں پھیل رہی رشوت خوری کی وباء بھی بے روز گاری کی ذمہ دار ہے ۔جس سے غریب پڑھے لکھے نوجوانوں کے حق لو سلب کیا جاتا ہے ۔گزشتہ حکومتیں بھی بے روز گاری کے مسلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ دیکھائی نہیں دیں ۔

ریاست میں گورنمنٹ سیکٹر میں نوکریوں کا نہ ہونا اور وہیں پرائیویٹ سیکٹر نہ ہونے کے برا بر ہونا بھی بے روز گاری میں ہو رہئے احافے کی بڑی وجہ ہے ۔
حکومت کو چاہیے کہ ریاست میں پر ایسے کاروبار ی ادارے قائم کئے جائے جن سے کسی حد تک بے روز گاری کو قا بو میں کیا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں