خبر اردو :
نیشنل کانفرنس کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لوک سبھا میں شرکا پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ بات چیت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر روس اور امریکہ مذاکرات کرسکتے ہیں تو پھر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کیوں نہیں ہوسکتی؟ مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بتایا کہ ہمیں کہا گیا کہ نوٹ بندی سے پتھر بازی بھی بند ہوگی لیکن پتھر بازی تو دور کی بات یہاں تو اب بندوقیں اور گرینیڈ آگئے ہیں۔
نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ (رکن پارلیمان) نے لوک سبھا میں پاکستان کیساتھ مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک پاکستان کیساتھ کوئی راستہ نہیں نکالا جاسکتا، تب سے بات نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں کشمیری ہوں اور میں کشمیر پر بات کروں گا، ہم لوگ امن چاہتے ہیں اور یہ امن اُسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان کیساتھ مذاکرات ہونگے۔ اگر نارتھ کوریا اور امریکہ، جو کل تک ایک دوسرے کیخلاف بم برسانے کی باتیں کررہے تھے، ایک میز پر آسکتے ہیں، ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔ اگر روس اور امریکہ مذاکرات کرسکتے ہیں تو پھر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کیوں نہیں ہوسکتی۔
مرکزی سرکار کو آڑ ہاتھوں لیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم سے کہا گیا کہ نوٹ بندی ہوگئی ہے ،اب پتھر بازی بند ہوجائے گی، ’جناب پتھر بازی چھوڑیئے اب تو بندوقیں اور گرینیڈ آگئے ہیں، وزیر داخلہ صاحب کشمیر کے حالات بالکل باخبر ہیں‘‘۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بتایا کہ ہم انصاف چاہتے ہیں اور سالہاسال سے انصاف کے منتظر ہیں، نفرتیں ترک کیجئے، ہم دشمن نہیں ہیں، لیکن جس ہندوستان کو ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں، اُس سے ہماری نوجوان پود کو ڈر لگ رہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیرا عظم کو ناقابل تسخیر اکثریت حاصل تھی اور ہمیں اُمید تھی کہ جو اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نہیں کرسکے وہ موجودہ وزیر اعظم کریں گے لیکن کچھ نہیں ہوا۔
وزیرا عظم لال قلعے پر کہتے ہیں کہ کشمیریوں کے دلوں کو جیتنا ہوگا،لیکن عملی طور کچھ نہیں ہورہا ہے، میں ان سے اس ہاؤس میں اپیل کرتا ہوں کہ نفرتوں کو چھوڑ دیجئے اور کشمیریوں کیساتھ انصاف کیجئے۔فرقہ پرستی کے رجحان پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمارے ایک ممبر نے یہاں علامہ اقبالؒ کا شعر پڑھا، سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا۔۔۔ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستان ہمارا۔ انہوں نے کہا کہ ’مذہب نہیں سکھاتا آپ میں بھیر رکھنا۔۔۔ ہندی ہے ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا‘،علامہ اقبالؒ کے اسی کلام کا اگلا شعر ہے۔ ’’مسلمانوں پر شک مت کئے، مسلمان اتنا ہی ہندوستانی ہے جتنا آپ ہیں، ہندوستان کی آزادی کیلئے مسلمانوں نے بے پناہ قربانیاں پیش کیں ہیں‘‘۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر ہم ہندو اور مسلم کے نام پر نفرتیں پھیلاتے گئے تو اس سے ملک نہیں بنے گا، ’’ہمیں روس نہیں مار سکتا، ہمیں امریکہ نہیں مار سکتا، لیکن اگر ہم نے مذہبی بنیادوں پر لڑنا بند نہیں کیا تو ہم اپنے ملک کو خود ہی مار دیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو گلے لگانے سے ہی بات بنے گی ۔








