خبر اردو :
جنوبی کشمیر کے کھڈونی کولگام میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین خون ریز تصادم آرائی میں لشکر طیبہ کے 3جنگجو جاں بحق ہوئے جبکہ شمالی کشمیر کے لولاب علاقے میں جنگجوؤں نے فوج کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ بولنے کے بعد جائے واردات سے فرار اختیار کی۔ ادھر کھڈونی میں جاں بحق جنگجوؤں کی نماز جنازہ ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں پڑھائی گئی جس دوران چند نقاب پوش جنگجو نمودار ہوئے جنہوں نے جاں بحق ساتھیوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کی غرض سے ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ چلائے۔
اس دوران جنوبی کشمیر میں تناؤ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے اتوار صبح کو ہی موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کے احکامات جاری کئے جبکہ ریل حکام نے بھی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سرینگر سے بانہال چلنے والی ریل سروس کو بند کردیا۔ جنوبی کشمیر کے کھڈوانی کولگام علاقے میں اتوار کصبح 5 بجے کے قریب فورسز کو علاقے میں لشکر طیبہ سے وابستہ 3 جنگجوؤں کی موجود گی کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی جس کے بعدفوج، سی آر پی ایف اور ایس ا وجی کی بھاری جمعیت نے علاقے کو محاصرے میں لیتے ہوئے گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کیا۔
اطلاعات کے مطابق جونہی فورسز کی مشترکہ جمعیت تلاشی لینے کی غرض سے ایک گھر کے صحن میں داخل ہوئی جس کے متعلق فورسز کو پہلے ہی اطلاع موصول ہوچکی تھی‘ تو مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم فورسز نے بھی جنگجوؤں کے حملے کا بھر پور جواب دیتے ہوئے بستی کا محاصرہ مزید سخت کردیا اور تمام آنے اور جانے والے راستوں کو سیکورٹی کے موبائل بنکروں اور خار دار تاروں کو نصب کیا۔ پولیس نے بتایا کہ تلاشی پارٹی میں شامل فورسز اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کر کے جنگجوؤں کو مکان سے باہر آنے کا موقع فراہم نہیں کیااورعلاقے میں مزید کمک کو طلب کر کے مکان اور پورے محلے کو سخت محاصرے میں لے کر تمام آنے اور جانے والے راستوں کو سیل کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران جنگجوؤں نے مکان میں موجود مختلف کمروں میں مورچہ سنبھالتے ہوئے فورسز اہلکاروں پر چہار سو فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی خون ریز تصادم کا آغاز ہوا جو چند گھنٹوں تک ہی جاری رہا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے عوامی مداخلت اور احتجاجی مظاہروں کو مدنظر رکھتے ہوئے فائرنگ کے بجائے مکان پر مارٹر شیلوں کی برسات کی جس کے نتیجے میں جھڑپ مختصر وقت کے اندر ہی اختتام پذیر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز کی مارٹر شیلنگ کے نتیجے میں عمر رشید نامی جنگجو کے مکان کے علاوہ ایک اور شہری لطیف احمد وانی کا مکان گولہ باری کے نتیجے میں مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا جس کے بعد پولیس نے جھڑپ کی جگہ سے عسکری تنظیم لشکر طیبہ کے ایک غیر ملکی سمیت3جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کیں ۔پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت ابو معاویہ ساکن پاکستان،مدثر احمد بٹ ساکن کترسو اور سہیل احمد ڈار ساکن ریڈ ونی کولگام کے طور پر کی جبکہ 2 مقامی جنگجوؤں کی نعشوں کو قانونی لوازمات پورا کرنے کے بعدلواحقین کے حوالے کیا گیا ۔
اطلاعات کے مطابق جب مارے گئے جنگجوؤں کی نعشیں ان کے آبائی گھروں کو پہنچائی گئی تو وہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی اور فلک شگاف نعرے لگائے ۔جبکہ نمازجنازہ میں شرکت کرنے کے لئے جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پیدل اور گاڑیوں،موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر جنازے میں شریک ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں جنگجوؤں کے نماز جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کر کے اسلام اور آ زادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی جس کے دوران چند جنگجوؤں پر مشتمل ایک گروپ جنازے میں نمودار ہو کرجاں بحق ساتھیوں کو سلامی پیش کی ۔
اس دوران ضلع کولگام میں جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زند گی بری طرح متاثر رہی ہے جہاں قصبے میں تمام کار باری ادارے مکمل طور پر بند رہے جبکہ سڑکوں سے ہر قسم کا ٹرانسپوٹ غائب رہا ۔ اس دوران انتظامیہ نے امن قانون کی صورت حال کو بر قرار رکھنے اور آفواہوں کو روکنے کے لئے اتوار کی صبح سویرے سے ہی ضلع میں موبائل انٹرنیٹ سروس پر روک لگادی۔جبکہ واقعے کے فوراً بعد ریل انتظامیہ نے بھی مسافروں اور ریل پراپرٹی کی حفاظت کو یقینی بنا نے کے لئے بانہال سے سرینگر چلنے والی ریل سروس کو معطل رکھا ۔ادھر کولگام واقعے کے بعد ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے بتایا کہ مارے گئے جنگجو پولیس اہلکارمحمد سلیم کو اغوا کے بعد قتل کرنے میں ملوث تھے ۔
واضح رہے کولگام علاقے میں جمعہ کی شام کو محکمہ پولیس میں کام کر رہے ایک اہلکار کومحمد سلیم شاہ کوجنگجوؤں نے اغوا کے بعد قتل کرکے اس کی لاش کو سنیچر کی شام کو آبائی گاؤں سے چندکلومیٹر دور گھاٹ کے مقام پر چھوڑ دی تھی۔ادھر اتوار کی صبح شمالی کشمیر کے شمریال لولاب علاقے میں جنگجوں نے 28RRکی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا جہاں فوج نے بھی جوابی فائرنگ کی ہے تاہم علاقے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔
پولیس ذرائع نے بتایا اتوار کے صبح شمر یال جنگلات میں فوج کی ایک گشتی پارتی علاقے میں گشت کر رہی تھی جس کے دوران جنگل میں موجود جنگجوؤں نے فوجی پارٹی پر شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیا ن گولیوں کاشدید تبادلہ ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ واقعے میں جنگجو جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ فوج نے علاقے میں 9پیرا سے وابستہ اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو طلب کر کے حملہ آور جنگجوؤں کی تلاش شروع کی ، جہاں آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں تلاشی کاروائی جاری تھی ۔جبکہ دونوں اطراف سے کسی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔








