پی ڈی پی باغی لیڈر عبدالمجید پڈر نے این آئی اے کی طرفسے دباؤ جیسی خبروں کو کیا مسترد

خبر اردو :
پی ڈی پی کے باغی لیڈر اور ایم ایل اے نورآباد عبدالمجید پڈر نے این آئی اے کی طرف سے کسی بھی دباؤجیسی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آنجہانی مفتی محمد سعید نے بڑی محنت سے پی ڈی پی کی مالا بنائی تھی لیکن کچھ گنے چنے لوگوں نے اس مالا کو توڑدیا ہے اور ہم لوگ ایسے افراد کو توڑ کر پارٹی سے نکال باہر کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ آنے والی 28تاریخ کو پی ڈپی پی کا یوم تاسیس ہے تاہم میں اور میرے کارکنان اس دن کو مرکزی سطح کے بجائے اپنے حلقہ انتخاب میں ہی منائیں گے۔ عبدالمجید پڈر نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں گورنر راج عوام کے مفاد میں نہیں ہے کیوں کہ ایسے میں صرف افسران کی تاناشاہی چلتی رہتی ہے اور عوام کو روز بروز مشکلات کا سامنا درپیش رہتا ہے۔

پی ڈی پی کے ناراض لیڈر اور ایم ایل اے نورآباد عبدالمجید پڈر نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے کسی بھی دباؤ جیسی افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آنجہانی مفتی محمد سعید نے بڑی محنت سے پی ڈی پی کی مالا بنائی تھی تاہم کچھ خود غرض عناصر نے اس مالا کو توڑ دیا لیکن ہم لوگ ایسے افراد کو توڑ کر پارٹی سے نکال باہر کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ انہوں نے ان باتوں کا اظہار حلقہ انتخاب نورآباد میں پارٹی کارکنوں کے ایک کنونشن کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مہینے کی 28تاریخ کو پی ڈی پی اپنا یوم تاسیس منارہی ہے تاہم میں اور میرے کارکنان اس دن کو اپنے حلقہ انتخاب میں ہی منائیں گے۔

عبدالمجید پڈر نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں فی الوقت گورنر راج نافذ العمل ہے لیکن میں یہ صاف کردینا چاہتا ہوں کہ گورنر راج کے دوران لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا درپیش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی، بی جے پی مخلوط حکومت کی تشکیل سے اب تک ریاست جموں وکشمیر میں 3بار گورنر راج نافذ ہوچکا ہے جس کے زمینی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بتایا کہ گورنر راج کسی بھی طور منتخب حکومت کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ۔ پی ڈی پی لیڈر نے بتایا کہ ہمیں اپنے لوگوں نے 6سال کے لیے منتخب کیا گیا اور ابھی بھی نصف مدت باقی ہے لہٰذا یہاں گورنر راج کسی بھی حیثیت میں عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم جس ملک کا حصہ ہے وہاں جمہوریت کا بول بالا ہے لہٰذا ریاستی عوام کے حق میں گورنر راج ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر راج میں صرف افسران کی تانا شاہی چلتی ہے جس کے نتیجے میں عوام کو زمینی سطح پر سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

عبدالمجید پڈر نے بتایا کہ میں نے سبھی ہم خیال فکر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی ہے جنہوں نے ریاست میں جمہوری اداروں کی ازسرنو بحالی کے لیے رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر میں حالات پٹری پر لوٹ آئیں ، یہاں امن و امان قائم ہو، یہاں قتل و غارت گری کا بازار بند ہو، اس کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ ریاستی عوام، پاکستان، حریت کانفرنس اور ہندوستان سبھی آپس میں مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اُٹھائیں۔

پی ڈی پی لیڈر نے بتایا کہ میں نے ذاتی طور پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو بتایا کہ چار پانچ لوگوں کو پارٹی کو ہائی جیک کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ آنجہانی مفتی محمد سعید نے پی ڈی پی کی مالا کو سخت کوششوں کے بعد بنایا تاہم کچھ خود غرض عناصر نے اس مالا کو توڑ دیا۔ ہم ان گنے چنے خود غرض عناصر کو توڑ کر پارٹی سے باہر نکال پھینکیں گے اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں