مرکز رپورٹ :جموں کشمیر میں ماہ رمضان میں ۳۳۸ مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزیاں

خبر اردو:

بھارت نے پاکستان پر رواں برس حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر 477مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزم عائد کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوران 14سیکورٹی اہلکارں اور 11عام شہری ہلاک ہوئے۔ ادھر وزیر مملکت برائے امور داخلہ نے بتایا کہ سال 2015تا 2017کے دوران بھارت اور میانمار کی سرحد پر 272دراندازی کے واقعات پیش آئے جبکہ اس دوران پاکستان سے لگنے والی سرحد پر 108مرتبہ جنگجوؤں نے دراندازی کی کوشش کی۔

بھارت نے پاکستان پر رواں برس حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر 477مرتبہ جنگ بندی کے خلاف ورزیوں کا الزام عائد کی اہے۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ رواں برس رمضان کے دوران پاکستان نے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر 338مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں انجام دیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے دوران 17مئی سے 17جون تک جموں وکشمیر میں واقع لائن آف کنٹرول پر پاکستان نے جنگ بندی کی 338مرتبہ خلاف ورزی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران پاکستان کی جانب سے اس پار چوکیوں پر بلااشتعال چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی ۔

مرکزی وزیر نے مزید بتایا کہ رواں سال کے 16اپریل تا 16مئی تک پاکستان نے 139بار جنگ بندی کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان طے پاچکے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح 2مہینوں کے مختصر وقفے کے دوران پاکستان نے حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر 477مرتبہ جنگ بندی کی خلا ف ورزی انجام دی۔ انہوں نے بتایا کہ ان مواقع پر پاکستان کی طرف سے سرحدی علاقوں میں قائم رہائشی بستیوں پر بھی بلااشتعال چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی جانیں بھی تلف ہوئیں۔ وزیر نے بتایا کہ ماہ صیام میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے دوران پاکستان کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 14فورسز اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 11عام شہری بھی اس دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقفے کے دورے سرحد پار سے جاری گولہ باری کے نتیجے میں عوامی جائیداد کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔

ادھر وزیر مملکت برائے امور داخلہ نے بتایا کہ سال 2015تا 2017کے دوران بھارت اور میانمار کی سرحد پر 272دراندازی کے واقعات پیش آئے جبکہ اس دوران پاکستان سے لگنے والی سرحد پر 108مرتبہ جنگجوؤں نے دراندازی کی کوشش کی۔لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے امور داخلہ کرن ریجوجونے بتایا کہ بھارت اور میانمار کے درمیان ملنے والی سرحد پر سال 2015تا 2017کے دوران 272مرتبہ دراندازی کی کوششیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دوران پاکستان کی جانب سے بھی 108جبکہ بنگلہ دیش سے لگنی والی سرحد پر بھی 5مرتبہ دراندازی کی کوششیں ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تینوں ممالک کی طرف سے دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے سرحد پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں نے بھر پور طریقے سے دراندازی کا جواب دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں