خبر اردو :
وادی کشمیر میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے’’ سٹرلائٹ پاؤرناردرن ریجن سسٹم سٹرنگ تھنگ پروجیکٹ‘‘ کوطے شدہ وقت سے پہلے ہی تیار کیا گیا ہے ۔
اس لائن کے چالو ہونے کے بعد وادی کشمیر کی معاشی ترقی کیلئے بجلی خریدی جاسکتی ہے ۔ وادی کشمیر میں بجلی کی ضروریات خاص کرموسم سرما کے دوران پورا کرنے کیلئے سٹرلائٹ پاؤرناردرن ریجن سسٹم سٹرنگ تھنگ پروجیکٹ کو مقررہ شیڈول سے پہلے ہی چالو کرنے کیلئے تیار ہے ۔اس پروجیکٹ کے ذریعے 1000میگا واٹ بجلی وادی منتقل کی جاسکے گی اور اس کے نتیجے میں گرڈ صلاحیت میں70فیصد کا اضافہ ہوگا۔
مشکل جغرافیائی صورتحال ، غیر متوقع و سخت موسمی حالات اور ذاتی سیکورٹی تحفظات جیسے چیلینجوں کے باوجود یہ پروجیکٹ بہت جلد شروع کیا جائے گا۔پروجیکٹ اور اس کے فوائد کے بارے میں سرینگر میں منگل کو ایک پرس کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے سٹرلائٹ پاؤر انفرا بزنس کے سی ای او مسٹر وید تیواری نے کہا ’’ NRSS-29 نامی یہ پروجیکٹ پورے ملک میں سب سے بڑا نجی ٹرانسمیشن پروجیکٹ ہے ،یہ پروجیکٹ جموں کشمیر میں بجلی کی ضروریات پورا کرنے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، وادی کشمیر کا خطہ سماجی و معاشی مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ سرما کے مہینوں میں بجلی کٹوتی سے انتہائی پریشان رہتا ہے .
ریاست میں فی الوقت صرف800میگاواٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے اور آنے والے تین برسوں میں یہ ضرورت 4000میگاواٹ تک پہنچ جائے گی، حالانکہ ریاست میں پن بجلی پیدا کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے ، تاہم اسے مستقبل کیلئے دیگر ریاستوں سے بجلی حاصل کرنی پڑے گی، ہمارا پروجیکٹ 1000میگاواٹ سے زیادہ بجلی پنجاب سے وادی کشمیر منتقل کرکے نیشنل گرڈ کو مزید مضبوط کرے گا‘‘۔
مسٹر تیواری نے مزید کہا کہ’’اس پروجیکٹ کے مکمل ہونے سے طبی سہولیات اور تعلیم کی بہتری کے ذریعے ریاست کی سماجی و معاشی ترقی ممکن ہوسکے گی ، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے تجارتی ادارے یعنیSMEsجوریاست کی اقتصادی ترقی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، اس پروجیکٹ کی مدد سے ای کامرس ، ٹیکنالوجی و مشینری، مواصلات اور مارکیٹنگ کے اعتبار سے بھی مستفید ہونگے‘‘۔سٹرلائٹ پاؤر نے نہ صرف انتہائی موثر انداز میں پروجیکٹ مکمل کرنے کا ہُنرحاصل کرلیا ہے بلکہ تکنیک کی تنصیب بھی عمل میں لائی ہے جس کے تحت اس پاؤر ٹرانسمیشن لائن کو مکمل کرنے کیلئے پہلی بار ہیلی کرینز استعمال میں لائے گئے جس کے نتیجے میں پروجیکٹ مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہوا اور ماحولیات بھی کم سے کم اثرانداز ہوئی۔
اس ٹرانسمیشن لائن کے تحت پیر پنچال کے انتہائی مشکل مقامات پر قریب1150ٹاؤر نصب کئے گئے ہیں اور اس سے مجموعی طور1.25کروڑ لوگوں کی زندگی اثر انداز ہوگی۔پروجیکٹ چالو ہونے کے بعد کمپنی 35سال کیلئے پروجیکٹ کو چلانے کے علاوہ اس کی دیکھ ریکھ بھی کرے گی۔








