سرکاری اراضی پر ناجائز تجاوزات کا خاتمہ ،گورنر انتظامیہ کا صیحح اقدام

رضوان سلطان:

ریاست جموں کشمیر میں جنگلات ،پنچایتی ،اور بھی کئی قسم کی سر کاری زمینوں پر ناجائز قبضے کی بات کوئی نئی نہیں ہے ۔لیکن نئی بات یہ ہے کہ سرکاری اراضی پر ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لئے گورنر انتظامیہ نے کاروائی شروع کر دی ہے ۔

آج تک شائد ہی کسی نے سنا ہو گاکہ سرکاری ا راضی پر لوگوں کا قبضہ ہے ۔اس بات کا نکشاف بھی گورنر انتظامیہ کی کی ایک میٹنگ کے دوران ہو ا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ ۱۸ لاکھ کنال سرکاری اراضی لوگوں کے قبضے میں ہے ۔

گورنر این این ووہرا نے۱۸ لاکھ کنال حکومت کی زمیں پر ناجائز قبضے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات کرنے کے احکامات جاری کئے ۔اس حکم کے کچھ دنوں بعد ہی اکھنور جموں سے ۸۰ ہیکٹر سرکاری زمیں کوواپس بازیاب کیا گیا ہے ۔اسکے علاوہ ۵۱ ہیکٹر اینیمل ہسبنڈری دیپارٹمنٹ کی زمیں راجوری سے بازیاب کرائی گئی ہے ۔پچھلے سالوں میں اتنے وسیع پیمانے پر تجاوزات کیسے عمل میں آئے ،عوام اس سے پوری طرح سے بے خبر ہے ۔

وہیں اگر دیکھا جائے تو سرکاری زمینوں پر اتنے بڑے پیمانے قبضہ کرنا سیاسی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں ہوا سکتا ہے ۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے ایسی کاروایا ں پچھلی حکومتوں کی کھلی آنکھوں کے سامنے کی گئی ہیں ۔ کیونکہ نہ ہی آج تک اس طرح کے ناجائز تجاوزات کی بات سامنے آئی اور نہ ہی سابقہ حکومتوں کی طرف سے ان تجاوات کے خلاف کوئی کارواائی کی گئی ۔

لیکن اب ریاستی گورنر نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈویژنل کمشنروں اور ضلعی کمشنروں ک ہدایات دی ہیں کہ وہ اس حوالے سے تفصیلات جمع کریں تاکہ آنے والے ایام اس طرح کے تجاوزات کو ہٹایا جا سکے ۔وہیں اس اقدام سے عوام نے بھی گورنر کی سرہانا کی ہے ،بلکہ اس سے وہ عناصر بھی بے نقاب ہونگے جنہوں نے ایسے سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کی پشت پناہی کی ہو گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں