سرینگر پریس کالونی میں گاڑیوں کی توڑ پھوڑ ،پولیس نے کی تحقیقات شروع

خبر اردو :
پریس کالونی میں بدھواراور جمعرات کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے صحافیوں کی 3گاڑیوں کے توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجے میں صحافیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ادھر ایس ایس پی سرینگر امتیاز اسماعیل پرے نے بتایا کہ پولیس نے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کی ہے۔

شہر سرینگر کے قلب پریس کالونی میں نامعلوم افراد نے بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب کو صحافیوں کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ گاڑیوں میں موجودکاغذات کی بھی باریک بینی سے تلاشی لی ہے جس کے نتیجے میں پریس کالونی میں موجود صحافتی اداروں اور صحافیوں کے اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔یاد رہے چھہ ہفتہ قبل پریس کالونی میں بندوق برداروں نے روزنامہ رائزنگ کشمیر کے مدیر اعلیٰ سید شجاعت بخاری کو2ذاتی محافظوں سمیت گولیوں سے اُس وقت بھون ڈالا جب وہ اپنے دفتر سے گھرباہر آرہے تھے۔

ادھر دوران شب نامعلوم افراد کی طر ف سے پریس کالونی میں موجود گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کو لے کر صحافیوں کے اندر خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے پولیس نے اس معاملے میں وضاحت طلب کی ہے۔نامعلوم افراد نے پریس کالونی میں موجود 3گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ گاڑیوں میں موجود کاغذات کی بھی باریک بینی سے تلاشی لی ہے۔ جن گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی ہے اُن میں بی بی سی کے سابق نمائندے الطاف حسین کی ایس یو سی گاڑی بھی شامل ہیں ۔ الطاف حسین کا کہنا ہے کہ دوران شب میری گاڑی کے شیشے چکنا چور کئے گئے ہیں جبکہ اس دوران حملہ آوروں نے گاڑی کے اندر جانے کی کوشش کرتے ہوئے گاڑی میں موجود کاغذات کی بھی جانچ پڑتال کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ چھ ماہ قبل یہاں ایک دل دہلانے والے واقعہ میں وادی کے سینئر صحافی کو اپنے محافظوں سمیت قتل کردیا گیا تاہم پولیس نے اُس وقت یہ دعویٰ جتایا کہ یہاں موجود صحافیوں کی سلامتی کے حوالے سے چوبیسوں گھنٹے سیکورٹی کو متحرک رکھا جائے گا۔

انہوں نے بتایاکہ صحافیوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ شام 8بجے سے لے کر صبح 8بجے تک یہاں پولیس کا خصوصی دستہ تعینات رہا کرے گا۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں بتایا کہ یا تو نامعلوم افراد نے پولیس کی موجودگی میں ہی توڑ پھوڑ کی ہے یا تو اُس وقت پولیس یہاں پر موجود نہیں تھی؟ انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کرنے اور پھرگاڑی کے اندر گھس جانے اور کاغذات کی جانچ کرنے میں کم از کم آدھا گھنٹا درکار ہے لہٰذا ہم پولیس نے اس معاملے میں جواب طلب کرتے ہیں کہ وہ اس وقفے کے دوران کہاں تھی؟ انہوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد کی جانب سے اس قسم کی کارروائی سے صحافتی برادری خوف زدہ ہوچکی ہے۔ الطاف حسین نے بتایا کہ مجھے کئی صحافیوں نے فون کئے جو بہت پریشان لگ رہے تھے۔ صحافیوں اپنے سلامتی کے حوالے سے کافی فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔
ادھر ایس ایس پی سرینگر امتیاز اسماعیل پرے نے بتایا کہ ہم نے پریس کالونی میں پیش آئے واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور پولیس نے اس حوالے سے تحقیقات کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں