خبر اردو :
پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں گاؤ رکشا کے نام پر مسلمانوں کی ماردھاڑ پر لگام نہ لگائی گئی تو ملک کے اندر ایک اور 1947دہرایا جائے گا۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کے حوالے سے شراکت داری کو جواز بخشتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی نے صرف ملک اور ریاست کے مسلمانوں کی سلامتی کو لے کر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا ۔
پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ نے پارٹی کے یوم تاسیس کے موقعہ پر عوامی جلسے سے خطاب کے دوران ملکی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر گاؤ رکشا کے نام پر مسلمانوں کی ماردھاڑ کو نہ روکا گیا تو ملک کے اندر ایک اور 1947دہرایا جائے گا۔ انہوں نے ملک کی مختلف ریاستوں میں فرقہ پرستوں کی جانب سے مسلمانوں کو گائے کی سمگلنگ کے نام پر مارپیٹ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فرقہ پرستوں کی کارروائیوں کو نہ روکا گیا تو ملک کے اندر ایک اور 1947دہرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمانوں شہریوں کی ملک میں مارپیٹ نہ روکی گئی تو ملک کو ایک بار پھر تقسیم ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مظفر حسین بیگ نے بتایا کہ ہم ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو یہاں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسلمان شہریوں کی ملک بھر میں گاؤ رکھشک کے نام پر مارپیٹ کو روکنے میں اپنا رول ادا کریں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک نے پہلے ہی ایک تقسیم دیکھی ہے اور اگر اس قسم کی کارروائیوں پر لگام نہ کسی گئی توملک میں مزید تقسیم دیکھنے کو ملے گی۔انہوں نے بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کے حوالے سے شراکت داری کو جواز بخشتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی نے صرف ملک اور ریاست کے مسلمانوں کی سلامتی کو لے کر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا ۔انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد صرف اس بنیاد پر کیا تاکہ ملک اور ریاست کے مسلمانوں کے ساتھ انصاف ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے بی جے پی کے ساتھ الائنس قائم کی جس کے متعلق لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جماعت مسلم دشمن ہے، جو کہ بالکل صحیح ثابت ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح ملک بھر میں مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ، گاؤ رکھشک کے نام پر مسلمانوں کو مارا اور پیٹا جارہا ہے اس سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ بی جے پی مسلم دشمن جماعت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے بی جے پی کے ساتھ حوس اقتدار کی خاطر اتحاد قائم نہیں کیا بلکہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ بی جے پی مسلمانوں کے ساتھ بہتر طریقے سے پیش آئے اور انہیں انصاف فراہم کرنے میں اپنا رول ادا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی ایک اور وجہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی شروعات تھی۔








