خبر اردو :
آرٹیکل پر منڈلاتے بادلوں کے بیچ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے سپریم کورٹ میں ریاست جموں کشمیر کے پُشتنی باشندوں کی اسٹیٹ سبجیکٹ حیثیت کو کالعدم قرار دئے جانے کے لیے آئین ہند میں درج خصوصی دفعہ کو منسوخ کرنے کی تیاریوں سے پیدا شدہ گھمبیر صورتحال کا بغور جائزہ لیا ۔ اس دوران مزاحمتی لیڈان نے بھارت کی طرف سے ریاست جموں کشمیر پر اپنی تہذیبی، سیاسی اور معاشی جارحیت کو عملانے کے خلاف اپنا زور دار صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے مورخہ 5اور 6؍اگست کو مکمل ہڑتال کے ذریعے سِول کرفیو نافذ کرنے کی دردمندانہ اپیل کی ۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کا ایک غیر معمولی اجلاس اتوار سہ پہر کو حیدرپورہ سرینگر میں منعقد ہواجس میں مزاحمتی قائدین نے بھارت کے سپریم کورٹ میں ریاست جموں کشمیر کے پُشتنی باشندوں کی اسٹیٹ سبجیکٹ حیثیت کو کالعدم قرار دئے جانے کے لیے آئین ہند میں درج دفعہ 35-Aکو منسوخ کرنے کی تیاریوں سے پیدا شدہ گھمبیر صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محسوس کیا گیا کہ بھارت یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کے لیے آئینی رُکاوٹوں کو دُور کرنے کی اسرائیلی پالیسی پر گامزن ہوکر ہماری تحریک حقِ خودارادیت کو ناکام بنانے کی مذموم سازشوں کا جال بچھا رہا ہے۔
مزاحمتی قیادت نے بھارت کی طرف سے ریاست جموں کشمیر پر اپنی تہذیبی، سیاسی اور معاشی جارحیت کو عملانے کے خلاف اپنا زور دار صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے مورخہ 5اور 6؍اگست کو مکمل ہڑتال کے ذریعے سِول کرفیو نافذ کرنے کی دردمندانہ اپیل کی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے اپنی مظلوم قوم کے ہر طبقے سے وابستہ ذی عزت شہریوں اور انجمنوں کو بھارت کی اس اسرائیلی پالیسی کے ذریعے یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کے ساتھ چھیڑ خانی کے خلاف اپنے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے مزاحمتی قیادت کے پُرامن احتجاجی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی دردمندانہ اپیل کی۔
مزاحمتی قیادت نے بار ایسوسیشن، تمام ٹریڈرس فیڈریشنوں، ٹرانسپورٹ انجمنوں، ایمپلائز یونینوں چیمبرس آفس کامرس، ہاؤس بوٹ اونرس، ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ انجمنوں، طلباء یونٹوں کے علاوہ عام لوگوں سے مودبانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 35-Aاور دفعہ 370کو منسوخ کئے جانے سے اولاً یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا راستہ صاف ہوسکتا ہے اور دوم تحریک حقِ خودارادیت کو ناکام بنانے کے لیے یہ ایک زہرناک اسرائیلی پالیسی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے اس معاملے کی سنگینیت اور نزاکت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب باشندگان کشمیر کے لیے سیاسی، تہذیبی اور معاشی طور موت وحیات سے جُڑا ہوا ایک حساس مسئلہ ہے جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مزاحمتی قیادت نے عوام سے اس اپیل کا بھی اعادہ کیا کہ اگر بھارت کی سپریم کوٹ نے دفعہ 35-Aکی منسوخی کے حوالے سے کوئی بھی کوشش کی تو اس صورت میں پوری قوم ایک زوردار عوامی تحریک شروع کرنے کے لیے آج سے ہی مکمل تیاری کرلیں۔
مزاحمتی قیادت اپنی مظلوم اور غیور قوم کے سامنے اس عہد کا اعادہ کرتی ہے کہ اگر اس جدوجہد میں ہماری جان بھی چلی جائے یا گرفتار کیا گیا تو ہم کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے۔








