خبراردو :
سیلاب کے4 سال گزر جانے کے باوجود آلوچی باغ سرینگر کے متاثرین امداد کی دوسری اور تیسری قسطوں سے محروم ہیں تاہم انہوں نے معاملے کی نسبت انتظامیہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ 2014میں آئے تباہ کن سیلات کے 4سال مکمل ہونے والے ہیں لیکن سیلاب متاثرین ہنوز امداد سے محروم ہے۔شہر سرینگر کے آلوچی باغ سے آئے ہوئے ایک وفد نے کشمیر نیوز سروس کے دفتر پر آکر اپنی روداد بیان کی۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2014کے تباہ کن سیلاب میں اگر چہ حکومت نے متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے تاہم شہر کے بیچوں بیچ علاقہ آلوچی باغ کے رہائش پذیر لوگ جن کو سیلاب نے کافی متاثر کردیا، مالی امداد سے ابھی تک محروم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد انتظامیہ نے مختلف ٹیموں کو نقصان کا جائزہ لینے کی خاطر بھیجا جنہوں نے سیلاب سے ہوئے نقصان کو تین زمروں میں تقسیم کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے سرکاری اہلکاروں نے زمرہAکو 38000، زمرہ Bکو 25000اور زمرہ Cکو 20000کی رقم پہلی قسط کے طور پر فراہم کی تالہ 4سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی آلوچی باغ کے رہائشی سرکاری امداد سے محروم ہے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا درپیش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب مقامی لوگوں نے اس حوالے سے انتظامیہ کے اہلکاروں سے بات کی تو انہوں نے کوئی خاطرخواہ جواب نہیں دیا۔ اس حوالے سے کے این ایس نے تحصیلدار شالہ ٹینگ کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے ساتھ رابطہ قائم نہ ہوسکا۔ مقامی لوگوں نے اپنی فریاد کی دادرسی کے لیے ریاستی گورنر این این ووہرا سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔KNS








