ریاسی حملہ :50 مشتبہ افراد گرفتار، ارناس اور ماہور علاقوں تک محاصرہ بڑھا دیا گیا

جموں،جموں وکشمیر کے ریاسی ضلع میں 9جون کو یاترا بس پر ہوئے حملے کے بعد پولیس نے ابتک 50مشتبہ افراد کو دھر دبوچ کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔معلوم ہوا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کے بعد پولیس نے حملہ آوروں کو تلاش کرنے کی خاطر ریاسی کے دور افتادہ علاقوں میں بھی ملی ٹینٹ مخالف آپریشن شروع کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر پولیس نے ریاسی بس حملے کے سلسلے میں 50مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ 9جون کی شام کو ریاسی کے کانڈا علاقے میں یاترا بس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس وجہ سے بس لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں دس یاتری ہلاک جبکہ 33دیگر زخمی ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ہیومن انٹیلی جنس اور ٹیکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کا لاکر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جس دوران پچاس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق حملہ آوروں کی مد د و اعانت اور انہیں رہائشی سہولیات فراہم کرنے والوں کی بھی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی گئی ۔

پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ مشتبہ افراد سے تفتیش کے بعد سیکورٹی فورسز نے ریاسی کے دور افتادہ علاقوں ارناس اور ماہور میں بھی بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن لانچ کیا ہے۔ان کے مطابق تحقیقات کے دوران منکشف ہوا کہ ریاسی کے دور افتادہ علاقوں میں دہشت گرد موجود ہو سکتے ہیں جس کے پیش نظر تلاشی آپریشن کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تلاشی آپریشن کا مقصد حملہ آوروں کو جلدازجلد کیفرکردار تک پہنچانا ہے ۔

دریں اثنا ایس ایس پی ریاسی موہتا شرما نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ اگر علاقے میں کسی مشکوک افراد کو دیکھا گیا تو فوری طورپر اس ضمن میں نزدیکی پولیس اسٹیشن کے ساتھ رابط قائم کریں۔

یو این آئی، ارشید بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں