دنیا
آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
تہران، ایران نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں فرانس کی شرکت سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ذمہ داری صرف ایران ادا کرے گا اور یہ اقدام امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہوگا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام صرف ایران انجام دے گا، جیسا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں درج ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس اور پیچیدہ ہے، اس لیے فرانس کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
کاظم غریب آبادی نے فرانس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی “اشتعال انگیزیوں” سے حالات کو مزید پیچیدہ نہ بنائے۔
ایرانی ردعمل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فرانس اور سلطنت عمان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے تعاون کریں گے تاکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کی جا سکے اور عالمی جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
میکرون نے پیرس میں سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ دونوں ممالک نے شراکت داروں کے تعاون سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں نئے انتظامات زیر غور ہیں اور اس بات پر اختلاف برقرار ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی اور جہاز رانی کے انتظامات کی ذمہ داری کس کے پاس ہوگی۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ایک ایرانی تکنیکی وفد رواں ہفتے قطر کا دورہ کرے گا، جہاں مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں فریقوں کے درمیان تکنیکی رابطوں کا حصہ ہے اور اس کا امریکی حکام کے ممکنہ دورۂ دوحہ سے کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان نے مزید واضح کیا کہ ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں پر مکمل عمل درآمد آئندہ مرحلے کی بات چیت سے پہلے ضروری ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
دنیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں میں دھماکوں کا دعویٰ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تہران، آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کے باعث کشیدگی برقرار ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو آئل ٹینکروں میں دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً ایک گھنٹہ قبل امریکی انٹیلی جنس اداروں نے مبینہ طور پر دو آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزارنے کی کوشش کی، جہاں وہ سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
بیان کے مطابق بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دونوں آئل ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔
ایران نے متاثرہ آئل ٹینکروں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم ملاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے جاری ہدایات پر عمل کریں اور بارودی سرنگوں والے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کریں۔
اس واقعے پر امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
کویت میں پیٹرولیم تنصیب پر ایران کا حملہ، متعدد افراد زخمی، بڑے پیمانے پر نقصان
تہران، ایرانی حملے میں کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی ایک تیل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
اس حوالے سے جاری کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
اس سے قبل ایران کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی نے خبر دار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملے جاری رکھے تو تہران تنازع کو مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل کر دے گا۔
محسن رضائی نے جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب جنگ یا مذاکرات کی پالیسی ختم ہو چکی ہے، 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی حکمتِ عملی تنازع کو خطے میں پھیلنے سے روکنا تھی۔
سینئر فوجی مشیر کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے کویت یا دیگر امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
لبنانی صدر جوزف عون امریکہ کے دورے پر روانہ
تہران، لبنان کے صدر جوزف عون اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ روانہ ہوگئے۔
بیروت میں ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لبنانی صدر کی امریکہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ سربراہی اجلاس منعقد ہو گا۔
اجلاس میں امریکی حکام کے ساتھ لبنان کی موجودہ صورتِ حال، جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے ممکنہ اقدامات، بالخصوص جنوبی لبنان میں امن و استحکام کی بحالی، اسرائیل کے زیرِ قبضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور ریاستی عملداری کو لبنان کے تمام علاقوں تک وسعت دینے جیسے امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان4 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا4 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا2 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان5 days agoہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
دنیا1 week agoایران نے اقوام متحدہ سے امریکہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی، ہنگامی امداد کی اپیل
دنیا4 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
ہندوستان5 days agoخردہ مہنگائی 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر، کانگریس نے مرکزی حکومت پر عوام پر بوجھ بڑھانے کا لگایا الزام
دنیا2 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا5 days agoامریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان








































































































