پاکستان میں ہر 5 منٹ میں ایک شخص ٹریفک حادثے کا شکار

اسلام آباد،پاکستان میں ہر پانچ منٹ میں ایک شخص ٹریفک حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ٹریفک حادثات کے باعث سالانہ 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

روڈ سیفٹی کے حوالے سے پاکستان کا شمار بد ترین ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے، نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر ٹریفک حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس میں ڈرائیورز کی غفلت سب سے نمایاں ہے۔

سب سے زیاد ہ ٹریفک حادثات خیبر پختون خواہ، اس کے بعد پنجاب اسلام آباد اور پھر سندھ میں رپورٹ ہوتے ہیں، مگر اندرون سندھ میں حادثات کی بڑی وجہ سڑکوں کی خستہ حالت ہے۔

جامعہ کراچی ڈیپارٹمنٹ آف جغرافیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمان زبیر کہتے ہیں کہ سندھ بھر میں 40 فی صد جان لیوا حادثات انڈس ہائی وے پر جامشورو سے سیہون راستے پر ہوتے ہیں، اس روڈ کو سندھ بھر میں ’شاہراہ موت‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق کراچی میں 65 فی صد حادثات ہیوی گاڑیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں، جن کا سب سے زیادہ شکار موٹر سائکل سوار بنتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق 2022 میں ٹریفک حادثات میں 781 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں سالانہ اٹھائیس ہزار لوگ ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہو جاتے ہیں، جب کہ 50 ہزار سے زائد افراد زخمی اور عمر بھر کی معذوری سے دوچار ہوتے ہیں۔ ایک حکومتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر پانچ منٹ کے بعد ٹریفک حادثہ پیش آتا ہے، جس میں کوئی نہ کوئی شخص زخمی یا جاں بحق ہو جاتا ہے۔

نیشنل روڈ سیفٹی کے اندازے کے مطابق 2020 میں پاکستان میں سڑکوں پر ہونے والے حادثات 77 فی صد تک بڑھے، اگر حادثات کو روکنے کی کوئی حکمت عملی پیش نہ کی گئی تو پاکستان میں ان حادثات کی تعداد 2030 میں 200 فی صد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ٹریفک حادثات صرف انسانی جان ہی نہیں لیتیں، بلکہ یہ ملکی معیشت پر بھی ایک بوجھ بنتی ہیں، پاکستان میں ہر سال 9 ارب ڈالر سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی وجہ سے زخمی ہونے والے افراد کی طبی امداد اور تباہ حال گاڑیوں کی مرمت میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریفک حادثات کے بڑھنے کا سبب ٹریفک قوانین سے عدم واقفیت، لاپرواہی، گاڑیوں میں ہونے والی تکنیکی خرابیاں ہیں، تاہم ڈرائیورز کی لاپرواہی و غفلت گاڑیوں کی تکنیکی خرابی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 29.8 فی صد حادثات تیز رفتاری جب کہ 17 فی صد اموات ڈرائیورز کی لاپرواہ ڈرائیونگ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے بڑے شہروں میں 84 فی صد سڑکیں ایسی ہیں جہاں پر زیبرا کراسنگ، پل اور فٹ پاتھ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے بھی پیدل چلنے والے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر سڑک پار کرتے ہیں۔

اس تناظر میں پاکستان میں روڈ سیفٹی پر کام کرنے کے لیے ایک خود مختار ادارہ بنائے جانے کی ضرورت ہے، جو حادثات سے بچاؤ کے لیے روڈ سیفٹی پر ایکشن پلان اور اس کے نفاذ پر کام کر سکے، اس کے علاوہ عوام میں ٹریفک قوانین کی آگاہی اور اس پر عمل کرنے کی بھی شدید ضرورت ہے۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں