ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پولیس وین کے قریب بم دھماکہ، 5 افراد جاں بحق

پشاور، خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ٹانک اڈہ کے قریب پولیس پر کیے گئے بم دھماکے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی خبر کے مطابق ریسکیو اور پولیس حکام نے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

پولیس اہلکار محمد عدنان نے بتایا کہ بم دھماکا ڈیرہ اسمٰعیل خان شہر میں گشت پر مامور پولیس وین کے قریب ہوا، ریسکیو اہلکار اعزاز محمود نے بتایا کہ 5 افراد جاں بحق اور دیگر 21 زخمی ہوئے۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر ریسکیو 1122 ڈیرہ اسمٰعیل خان اویس بابر نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں کیں، تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

جاری بیان میں کیا گیا کہ ٹانک اڈہ کے قریب ہونے والے دھماکے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ ایک ٹریفک پولیس اہلکار اور خاتون سمیت 21 افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ تمام زخمیوں کو ایمرجنسی افسر نعمان اللہ مروت کی نگرانی میں ہسپتال منتقل کیا گیا، ریسکیو 1122 کی 6 ایمبولینسز اور 20 اہلکاروں نے آپریشن میں حصہ لیا۔

گزشتہ سال نومبر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد سے پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا ہے۔

31 اکتوبر کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پولیس کیمپ پر نامعلوم شدت پسندوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا تھا، اسی روز ضلع جنوبی وزیرستان میں آئی ای ڈی دھماکے میں دو فوجی شہید ہوئے تھے۔

رواں برس جولائی میں بلوچستان کے ضلع سوئی اور ژوب میں دو الگ کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے 12 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

رواں برس سیکیورٹی فورسز پر ایک دن میں ہونے والا یہ بدترین واقعہ تھا، اس سے قبل فروری 2022 میں بلوچستان کے ضلع کیچ میں فائرنگ سے 10 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

ستمبر میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے مرتب اعداد وشمار میں کہا گیا تھا کہ اگست میں دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد 9 سال کے دوران سب سے زیادہ رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نومبر 2014 کے بعد ملک بھر میں ایک مہینے میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ 99 حملے ہوئے۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں