جیل میں عمران کو سلو پوائزن دینے کا کوئی ثبوت نہیں ملا: ڈاکٹر سلطان

راولپنڈی، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں ہے کہ حراست کے دوران مسٹر خان کو سلو پوائزن دیا جا رہاتھا۔

پاکستان کے اخبار دی نیوز نے ڈاکٹر سلطان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔

ڈاکٹر سلطان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین نہ تو زہر کے زیر اثر ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی زہر دیا گیا تھا اور انہوں نے ملاقات کے دوران مسٹر خان کو ’صحت مند‘پایا۔ انہوں نے کہا، ”سابق وزیر اعظم صحت مند ہیں۔“

دریں اثنا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے، پی ٹی آئی کے چیئرمین نے جمعرات کو نو مئی کے پرتشدد فسادات میں اپنے ملوث ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ واقعے کے وقت وہ جیل میں تھے۔مسٹر خان کا بیان ان کے وکلاء کی موجودگی میں ریکارڈ کیا گیا۔اس دوران سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) (آپریشنز) راولپنڈی فیصل سلیم کی سربراہی میں جے آئی ٹی میں سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) (پوٹھوہر) وقاص خان، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) (نیو ٹاؤن) ملک اللہ یار،ایک انسپکٹر اور سب انسپکٹرموجود رہے۔ جے آئی ٹی 45 منٹ تک جیل میں رہی اور مسٹر خان سے پوچھ گچھ کی۔

تفتیشی حکام نے کہا کہ مسٹر خان نے تشدد میں ملوث ہونے کے الزامات کو براہ راست خارج کر دیا اور پیچیدہ اور سوالات کے جواب دیئے پیچیدہ اور الجھے ہوئے سوالات کو ٹال دیا۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اپنے جیل میں بند شوہر کی حفاظت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اٹک جیل میں ’زہر‘دیا جا سکتا ہے، جہاں انہیں پہلے5 اگست کو گرفتاری کے بعد حراست میں رکھا گیا تھا۔

سیکرٹری داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں سابق خاتون اول نے کہا کہ عدالت نے متعلقہ حکام کو ان کے شوہر کو راولپنڈی کی ادیالہ جیل منتقل کرنے کی ہدایتدی تھی۔

”میرے شوہر کو بغیر کسی وجہ کے اٹک جیل میں قید کر دیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق میرے شوہر کو ادیالہ جیل منتقل کیا جانا چاہیے۔“

مسٹر خان کو اگست میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب ایک عدالت نے انہیں 2018-22 کے اپنے دور حکومت کے دوران غیر ملکی معززین سے وزیر اعظم کے طور پر ملنے والے سرکاری تحائف کی فروخت سے متعلق توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حالانکہ اس سزا کوپلٹ دیاتھا۔

یو این آئی۔ خ س۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں