تعلقات کی بحالی پاکستان اور ایران کے لیے فائدہ مند ہے: کاکڑ

اسلام آباد، پاکستان کے قائم مقام وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی سے پہلے کے تعلقات کی بحالی دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق منگل کو ایران کی جانب سے پاکستانی علاقے پر حملے کے بعد کی صورتحال پر غوروخوض کے لئے مسٹر کاکڑ نے یہ بات کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان ایک قانون کی پاسداری کرنے والا اور امن پسند ملک ہے اور تمام ممالک بالخصوص اپنے پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔

مسٹر کاکڑ نے کہا کہ پاکستان اور ایران دو برادر ممالک ہیں، جن کے درمیان تاریخی طور پر احترام اور پیار سے برادرانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات رہے ہیں۔ پاکستان، ایران کی جانب سے تمام مثبت اقدامات کا خیرمقدم اور جواب دے گا۔

بیان کے مطابق وزارت خارجہ نے کابینہ کو پاکستانی سرزمین پر ایرانی حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کی، جس میں حملے کی تفصیلات اور پاکستان کا ردعمل بھی شامل ہے۔

قبل ازیں جمعہ کی شام، مسٹر کاکڑ نے صورتحال پر غور کرنے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں دفاع، خارجہ امور، اطلاعات اور خزانہ کے وزراء، مسلح افواج کے سربراہان اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے جمعے کی دوپہر اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے بات کی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے علاقوں پر حملوں کے بعد صورت حال کو کم کرنے پر اتفاق کیا۔

پاکستان نے بدھ کو ایران پر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ایران نے پاکستان کے اندر پاکستان -ایران سرحد کے قریب کچھ اہداف کو نشانہ بنایا۔

پاکستان کی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ملک نے پاکستان میں حالیہ حملوں کے لئے ذمہ دار دہشت گردوں کے ذریعے ایران کے اندر استعمال کیے گئے اہداف کے خلاف موثر حملے کیے۔

یواین آئی/ژنہوا۔الف الف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں