جنوبی افریقہ نیپال کے ہاتھوں شکست سے بال بال بچا، شمسی بنے ہیرو

کنگسٹاؤن، ٹی 20 ورلڈ کپ کا ایک اور اپ سیٹ ہفتہ کو اس وقت ٹل گیا جب نیپال نے پورے میچ پر اپنی گرفت کے باوجود آخری گیند پر تجربہ کار جنوبی افریقہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اورنوس ویل گراؤنڈ پر پہلے کھیلتے ہوئے جنوبی افریقہ نے سات وکٹوں پر 115 رنز بنائے جس کے جواب میں نیپال کی ٹیم 20 اوورز میں سات وکٹوں پر 114 رنز ہی بنا سکی۔

کشل بھرٹیل (19 رنز پر چار وکٹیں) اور دیپندر سنگھ ایری (21 رنز پر تین وکٹ) کی قاتلانہ گیندبازی کی بدولت نیپال نے جنوبی افریقہ کو محض 115 رنز پر روک دیاتھا اور بعد میں آصف شیخ (42) اور انل ساہ (24) نے ہدف کا آسانی سے تعاقب کرتے ہوئے 18ویں اوور میں چار وکٹوں کے نقصان پراسکور بورڈ پر 99 رن ٹانگ کر جیت کے امکانات کو مضبوط کر لیا تھا لیکن جنوبی افریقی گیندبازوں کے کے تجربے اور تبریز شمسی کی گھومتی گیندوں کے سامنے نیپالی ٹیم لڑکھڑاگئی اور انہوں نے آخری تین اووروں میں تین وکٹیں گنوانے کے بعد صرف 15 رنزکا اضافہ کیا اور انہیں شکست سے دوچارہونا پڑا۔

تبریز شمسی نے جنوبی افریقہ کی اس جیت میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے چار اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ایک موقع پر، نیپال کو صرف 18 گیندوں پر 18 رنز درکار تھے، جب شمسی نے اپنے اسپیل کے آخری اوور میں صرف دو کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔ اس اوور کے بعد نیپالی ٹیم دباؤ میں آگئی۔

116 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے، نیپال کی ٹیم کافی آسان طریقے سے بلے بازی کر رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے دوسری اننگ میں بلے بازی آسان ہو گئی ہے۔ پہلے اسپیل میں دو جھٹکنے والے شمسی کو بقیہ گیند بازوں کا ساتھ نہیں ملا لیکن دوسری کوشش میں وہ کامیاب ہوگئے۔ 18ویں اوور کے آغاز سے قبل نیپال نے صرف تین وکٹیں گنوائی تھیں اور اس کی ٹیم 100 رنز کے قریب تھی لیکن شمسی نے اپنی اسپن گیندبازی سے بلے بازوں کو چاروں خانے چت کردیا اور صرف دو رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔

میچ کے آخری اوور میں بھی نیپال کو میچ ڈرا کرنے کا موقع تھا۔ ایک گیند پر دو رنز درکار تھے اور ایک رن لینے کی کوشش میں نان اسٹرائیکر اینڈ پر گلشن جھا نے بڑی غلطی کردی۔ وہ تقریباً کریز پر پہنچ گئے تھے لیکن زیادہ پراعتماد ہونے کی وجہ سے وہ رن آؤٹ ہو گئے۔

یواین آئی۔الف الف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں