افغانستان: قائمقام وزیر دفاع کے گھر پر حملہ

افغانستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ منگل کی رات قائم مقام وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی کی رہائش گاہ کے قریب کار بم دھماکے میں ایک خاتون سمیت 8 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے کے قریب کابل کے ضلع شرپور علاقے میں ہوا جہاں زیادہ تر اعلیٰ سرکاری افسران کی رہائش گاہیں واقع ہے۔بم دھماکا بسم اللہ محمدی کے گھر کے قریب ہوا جس کے بعد 4 مسلح افراد قریبی گھر میں داخل ہوئے اور اس دوران ان کی سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم حملے کے فوری بعد سیکیورٹی اہلکار جائے وقوع پر پہنچے۔اسی حملے سے متعلق ایک ذرائع نے بتایا کہ 3 حملہ آور دھماکے کے فورا بعد رکن پارلیمنٹ محمد عظیم محسنی کے گھر میں داخل ہوئے تھے جبکہ محمد عظیم محسنی نے تصدیق کی کہ جب حملہ ہوا تب وہ گھر پر نہیں تھے ۔ایک سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ قائم مقام وزیر دفاع بسمہ اللہ محمدی کے گھر کا ایک سیکورٹی گارڈ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے اور دوسرا زخمی ہوا۔دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس واقعہ میں 20 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔علاوہ ازیں مختلف اضلاع اور شہروں میں طالبان اور افغان فورسز کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

کابل : دفاعی تنصیبات کے قریب دھماکہ

کابل//یو این آئی//افغان دارالحکومت کابل میں بدھ کے روز دفاعی تنصیبات کے قریب ایک زبردست دھماکہ ہوا ، جس میں کم از کم دو افراد زخمی ہوگئے ۔کابل پولیس کے ترجمان فردوس فارمرز نے ایک تحریری پیغام میں صحافیوں کو بتایا کہ پولیس ڈسٹرکٹ10میں صبح8:15بجے (مقامی وقت) ایک طاقتور دھماکہ خیز ڈیوائس میں دھماکہ ہوا ، جس سے دو افراد زخمی ہوگئے ۔ دھماکہ کابل ایئر پورٹ کے قریب ایک ایسے علاقے میں ہوا جہاں کئی اپارٹمنٹس اور عمارتیں واقع ہیں۔دریں اثناء غیر سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کا ایک اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہے ۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں