ہند اور چین کے درمیان کور کمانڈر سطح کے مذاکرات میں کوئی بھی پیش رفت نہیں ہو سکی

دونوں ملکوں نے ایل اے سی پرخراب صو رتحا ل کے لئے ایک دوسر ے کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

سرینگر :ہند اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں تعطل کو ختم کرنے کے لییاتوار کو ہونے والے کور کمانڈر سطح کے مذاکرات میں کوئی بھی خاص پیش رفت کے سامنے نہ آ نے کے بعد ہند چین نے پیر کی صبح آزاد بیانات جاری کرتے ہوئے ایک دوسرے کو صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ بھار ت نے الزام عائد کیا کہ بھارتی فریق نے بقیہ علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیری تجاویز پیش کیں لیکن چینی فریق راضی نہیں ہوئے اور کوئی آگے کی پیشکش بھی نہیں کرسکا جبکہ چین نے بھارتی فریق پر غیر معقول اور غیر حقیقی مطالبات کرنے کا الزام عائد کیا۔

سی این ایس کے مطابق بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں تعطل کو ختم کرنے کے لیے اتوار کو چشول کے نزدیک لائن آف ایکچول (ایل اے سی) کے پار مولدو گیریڑن میں کور کمانڈر سطح کے 13 ویں دور کے مذاکرات منعقد ہوئے۔ تقریباً دو ماہ کے وقفے کے بعد یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایل اے سی کے پار چینی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور50 ہزار سے زائد پی ایل اے فوجیوں کو سرحد پر تعینات کیا گیا ہے۔۔اتوار کو ہونے والے کور کمانڈر سطح کے مذاکرات میں کسی بھی خاص پیش رفت کے بعد ہند چین نے پیر کی صبح آزاد بیانات جاری کرتے ہوئے ایک دوسرے کو صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

جب کہ بھارت نے کہا کہ یہ تصادم چین کی یکطرفہ کوششوں کی وجہ سے پیش آ ئی ہے، چین نے کہا کہ بھارت کو مشکل صورتحال سے بچنا چاہیے۔بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اتوار کو چشول مالڈو بارڈر میٹنگ پوائنٹ پر کور کمانڈر سطح کی میٹنگ کے دوران، دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ باقی مسائل کے حل پر مرکوز رہی۔ بھارت نے نشاندہی کی کہ ایل اے سی پر صورتحال صورتحال تبدیل کرنے کی چینی فریق کی یکطرفہ کوششوں اور دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس ضمن میں گرچہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے ساتھ باقی مسائل کو حل کرنے پر مرکوز تھے۔

ملاقات کے دوران بھارتی فریق نے بقیہ علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیری تجاویز پیش کیں لیکن چینی فریق راضی نہیں ہوئے اور کوئی آگے کی پیشکش بھی نہیں کرسکا۔ا س سلسلے میں پی ایل اے ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان سینیء ر کرنل لانگ شاوہوا نے ایک بیان میں بھارتی فریق پر غیر معقول اور غیر حقیقی مطالبات کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے مذاکرات زیادہ مشکل ہوگئے۔ انہوں نے بھارت سے درخواست کی کہ وہ صورتحال کو غلط نہ سمجھے۔ کرنل لانگ نے چین اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک اور دونوں افواج کے درمیان متعلقہ معاہدوں اور اتفاق رائے کی پاسداری کی بات کی ہے۔

بھارت نے امید ظاہر کی ہے کہ چینی فریق دوطرفہ تعلقات کے مجموعی تناظر کو مدنظر رکھے گا اور باقی مسائل کے حل کے لیے جلد کام کرے گا۔اس بارے میں فوج نے کہا کہ یہ دونوں وزیر خارجہ کی طرف سے دوشنبے میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں دی گئی رہنمائی کے مطابق ہوگا جہاں انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ دونوں فریق باقی مسائل کو جلد از جلد حل کریں۔فوج نے کہا،کہ بھارت نے بقیہ علاقوں کے اس طرح کے حل پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت میں مدد ملے گی۔ میٹنگ کے دوران، ہندوستانی فریق نے بقیہ علاقوں کو حل کرنے کے لیے تعمیری تجاویز پیش کیں لیکن چینی فریق راضی نہیں تھا اور نہ ہی کوئی پیش نظر تجویز پیش کر سکا۔فوج نے کہا،اس طرح اجلاس کا بھی نتیجہ نہیں نکلا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ دونوں فریقوں نے مواصلات کو برقرار رکھنے اور زمین پر استحکام برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ مذاکرات کے تازہ ترین دور کے بعد دونوں فریقوں کے الگ الگ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختلافات حل ہونے سے بہت دور ہیں۔واضح رہے کہ موجودہ مذاکرات اتراکھنڈ کے بارہوٹی سیکٹر اور اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں