ٹرمپ کا صدارتی انتخابات میں تھوڑ پھوڑکے معاملے میں جج کو ہٹانے کا مطالبہ

واشنگٹن، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں توڑ پھوڑکے معاملے میں وفاقی جج کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر ٹرمپ کے وکلاء نے پیر کو امریکی ڈسٹرکٹ جج تانیا چھٹکن کے تبصروں پر دلیل دی۔ یہ تبصرے گزشتہ 6 جنوری کو دو مدعا علیہان کو سزا سنانے کے دوران دیے گئے تھے۔ جج چھٹکن نے اشارہ دیا کہ ان کا خیال ہے کہ مسٹر ٹرمپ پر “مقدمہ چلایا جانا چاہئے اور قید کیا جانا چاہئے۔”

سابق صدر کے وکلاء نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ جج چھٹکن نے دیگر مقدمات کے سلسلے میں مشورہ دیا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور انہیں جیل میں ڈال دینا چاہیے۔ مقدمہ شروع ہونے سے پہلے اور مناسب کارروائی کے بغیر دیے گئے اس طرح کے بیانات فطری طور پر نااہل ٹھہرانے والے ہیں۔”

مسٹر ٹرمپ پر امریکی خصوصی وکیل جیک اسمتھ نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو مسخ کرنے کی مبینہ کوشش کو لے کر چار الزامات عائد کیے ہیں۔ وہ مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنے والے پہلے سابق امریکی صدر ہیں۔ انہیں چار مقدمات میں قصور وار قرار دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے خود کو تمام الزامات سے بے قصور قرار دیا ہے۔

مسٹر ٹرمپ نے جارجیا کیس میں سامنے آئے سات معاملات کو بھی مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے استدلال کیا کہ بطور صدر اپنی سرکاری حیثیت میں کیے گئے کاموں کے لیے انہیں استغاثہ سے استثنیٰ حاصل ہے۔

یواین آئی/ژنہوا۔الف الف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں