الشباب کے انتہاپسندوں نے صومالیہ میں ایتھوپیا کے 167 فوجیوں کوکیا قتل

موغادیشو، مغربی صومالیہ میں انتہا پسند اسلامی گروپ الشباب کے جنگجوؤں کے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں ایتھوپیا کے کم از کم 167 فوجیوں کی موت ہوگئی۔

صومالی گارڈین نیوز پورٹل نے اتوار کو گروپ کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ گروپ نے یہ بھی کہا کہ زندہ بچ جانے والے ایتھوپیا کے فوجیوں کو پکڑ لیا گیا ہے اور ایتھوپیا کے فوجیوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عسکریت پسندوں نے ایتھوپیا کے فوجی سازوسامان کو بھی تباہ کر دیا اور بڑی تعدار میں ہتھیار قبضے میں لے لیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایتھوپیا کی مسلح افواج اور صومالیہ میں افریقی یونین کے عبوری مشن (اے ٹی ایم آئی ایس) نے ابھی تک اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

نیوز پورٹل کے مطابق، ایتھوپیا کی فوج نے واجد قصبے میں اپنے فارورڈ آپریٹنگ بیس کو مضبوط کرنے کی کوشش کی، جو تقریباً ایک دہائی سے عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔

الشباب صومالیہ میں مقیم ایک جہادی انتہاپسند گروپ ہے جو القاعدہ دہشت گرد گروپ (روس میں ممنوع) سے منسلک ہے۔ یہ صومالی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کر رہا ہے اور ملک میں اقوام متحدہ کے انسانی مشن میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔

یواین آئی۔ این یو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں