غزہ پر اسرائیلی بمباری،90 فلسطینی جاں بحق

، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے منگل اور بدھ کی درمیانی رات کم از کم 90 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

غزہ کی حکومت جسے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس چلاتی ہے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صرف رات کے دوران تازہ بمباری میں بیان کردہ اموات کے علاوہ سینکڑوں فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔

اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں لگ بھگ 6000 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں ایک ذریعے کے مطابق 60 فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ غزہ میں صرف ایک رات کے دوران ہونے والی یہ اب تک کی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں کیونکہ گزشتہ رات سے اسرائیل نے بمباری میں شدت پیدا کر دی ہے، یہ بمباری خاندانوں کے خاندانوں سمیت گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا رہی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ روز سینکڑوں فلسطینی بمباری کی وجہ سے شہید ہوئے، جبکہ پانی و بجلی کا تباہ ہو جانے کی وجہ سے غزہ میں بالعموم شٹ ڈاون کا ماحول ہوتا ہے۔

وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز مجموعی طور پر 704 فلسطینی لقمہ اجل بنےان میں زیادہ تر بچے اور خواتین تھیں۔ مسلسل بمباری اور بد ترین تباہی کی وجہ سے 23 لاکھ کی آبادی خوراک، پانی اور ادویات کے علاوہ ایندھن اور کمبلوں تک سے محروم ہے۔

دوسری جانب، اسرائیل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ منگل کے روز اس 400 فضائی حملے کیے تاکہ حماس رہنماوں کو ہلاک کیا جاسکے اور اس کے کمان مراکز کو تباہ کیا جاسکے۔

غزہ میں جہاں ائے روز ایک ہی خاندان کی کئی کئی ہلاکتیں ہو رہی ہیں ان میں دو خاندان ایسے بھی ہیں جن کے 47 افراد بمباری میں جان سے گئے ہیں۔ یہ لوگ رفح کے نزدیک رہتے تھے۔

خان یونس کے علاقے میں اسرائیلی بمباری کا ہدف بننے والی ایک چار منزلہ عمارت میں ایک ہی خاندان کے 13 افراد سمیت کل 32 افراد شہید ہو گئے۔ بچ جانے والے ایک فلسطینی نے بتایا کہ اس بلڈنگ میں 100 کے قریب بے گھر ہو چکے افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

ایک مارکیٹ کے علاقے کو بھی اسی بمباری کا نشانہ بنایا گیا جس سے نصیرت پناہ گزین کیمپ نشانہ بنایا گیا، یہاں ایک سبزی کی دکان کا فرش فلسطینیوں کے سرخ سرخ ، گرم گرم تازہ نوجواں لہو سے سرخ تھا۔

اس مسلسل ہونے والی بمباری اور ہر روز بڑھتی چلی جانے والی بمباری کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیل کو تباہی کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں