اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، شہید بچوں کی تعداد 3500 سے تجاوز کرگئی

غزہ، اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں بربریت کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ شہید بچوں کی تعداد ساڑھے 3ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے باعث ساڑھے 3 ہزار سے زائد بچے شہید ہوچکے ہیں، 1000ہزار سے زائد بچوں کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم عالمی تنظمیم ‘سیو دی چلڈرن’ کے مطابق صرف 24 روز میں مرنے والے غزہ کے بچوں کی تعداد گزشتہ 4 سال میں دنیا بھر میں جنگ زدہ علاقوں میں ہلاک بچوں سے کہیں زیادہ ہے۔

غزہ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بمباری سے اب تک 32 طبی مراکز غیر فعال اور 25 ایمبولینس ناکارہ ہوچکی ہیں۔ غزہ کے واحد کینسر اسپتال کے قریب بھی بمباری کی گئی، غزہ پر اسرائیلی بمباری سے طبی عملے کے 124 ارکان شہید ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں افراتفری کاذمہ دار ہے، غزہ کی صورت حال انسانی المیہ ہے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کی جڑ امریکا اوراس کی پالیسیاں ہیں، یہ بات سب جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں افراتفری کون چاہتا ہے اور اس کا فائدہ کس کو ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا فائدہ اٹھارہے ہیں، بیگناہ لوگوں کے قتل عام کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جاسکتا، تنازع کا واحد حل صرف فلسطینی ریاست کا قیام ہے اور کچھ نہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی صورت حال کو انسانی المیہ قرار دیا۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں