بائیڈن کےوزیرکو اسرائیل کے لیے مدد طلب کرنےپر امریکی کانگریس میں ہزیمت کا سامنا

واشنگٹن، غزہ میں نہتے شہریوں کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف احتجاج امریکی کانگریس کے اندر تک پہنچ گیا ہے، جہاں شرکا کے ’سرخ ہاتھوں‘ نے بائیڈن انتظامیہ کو ہزیمت سے دوچار کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق منگل کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کے دو اعلیٰ مشیر اسرائیل کے لیے مزید اربوں ڈالر کی امداد کے حصول کے لیے امریکی قانون سازوں کے پاس پہنچے تو کانگریس میں انھیں غزہ میں فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ کے خلاف شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس میں اسرائیل اور یوکرین کے لیے فنڈنگ لینے کے لیے آئے امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، کانگریس کمیٹی میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا گیا، اور شرکا نے سرخ رنگ سے ہاتھوں کو رنگ کر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

کانگریس کمیٹی میں سماجی رہنماؤں نے فوری جنگ بندی اور اسرائیل کی فنڈنگ روکنے کا مطالبہ کیا اور نعرے بازی کی۔ روئٹرز کے مطابق سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن اور سکریٹری آف ڈیفنس لائیڈ آسٹن نے تخصیصی کمیٹی کے سامنے بائیڈن کی درخواست پر گواہی دی، جو یوکرین، اسرائیل اور امریکی سرحدی سیکیورٹی کے منصوبوں کے لیے 106 ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کا اس بات پر اصرار ہے کہ امریکی پارٹنرز کی امداد کرنا خود امریکی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے، اس لیے یوکرین کے لیے 61.4 بلین ڈالر کی درخواست کی گئی ہے، جس میں سے تقریباً نصف فنڈز امریکا میں اسلحے کے اُس ذخیرے کو پھر سے بھرنے کے لیے خرچ کیے جائیں گے جو کیف کی مدد کے لیے خالی ہوا ہے۔

اسرائیل کے لیے بائیڈن انتظامیہ نے 14.3 بلین ڈالر کی درخواست کی ہے، 9 بلین ڈالر انسانی امداد کے لیے (جس میں اسرائیل اور غزہ بھی شامل ہوں گے)، امریکی سرحدی حفاظت کے لیے 13.6 بلین ڈالر، اور ایشیا میں چین کی علاقائی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 4 بلین ڈالر کی فوجی امداد اور حکومتی مالی اعانت کی درخواست کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں